بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت مکمل

وفاقی آئینی عدالت نے توشہ خانہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی زوجہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی اور ضمانت سے متعلق درخواست پر سماعت مکمل کر لی ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ آرڈر کا انتظار کریں۔

بدھ کو چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل پیش کیے، جبکہ اس موقع پر سلمان اکرم راجہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی عدالتوں میں خواتین کے مقدمات کے حوالے سے ہمیشہ نرم رویہ اختیار کیا جاتا رہا ہے اور بشریٰ بی بی کو بھی خاتون ہونے کے ناطے سزا معطلی کی قانونی رعایت ملنی چاہیے۔

وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 ماہ کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب) کا طرزِ عمل قابلِ اعتراض رہا، نیب نے متعدد بار سماعتوں میں التوا لیا اور سزا معطلی کی درخواست پر بھی بلاجواز اعتراضات اٹھائے۔

انہوں نے مؤقف پیش کیا کہ سزا سنائے جانے کے بعد اب بشریٰ بی بی کی ضمانت اور سزا معطلی کی مضبوط قانونی بنیاد موجود ہے، تاہم سابقہ تمام کارروائیوں کے دوران بنیادی توجہ بانی پی ٹی آئی کی مرکزی اپیل پر ہی مرکوز رہی۔

سماعت کے دوران بینچ میں شامل جسٹس باقی نجفی نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی مرکزی اپیل اب تک کتنی مرتبہ سماعت کے لیے مقرر کی جا چکی ہے۔

اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ اس مرحلے پر مقدمے کے میرٹ میں جانے کے بجائے عدالت کے سامنے موجود سزا معطلی کی درخواست کے قانونی پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی جائے۔

سماعت کے اختتام پر عدالت نے سلمان صفدر کو ہدایت کی کہ وہ اپنے دلائل کے اہم اور مرکزی نکات تحریری صورت میں جمع کرائیں، جس کے بعد عدالت آئینی و قانونی دائرہ کار کے مطابق اپنا محفوظ فیصلہ جاری کرے گی۔

Related posts