اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی مواد اور تصاویر بنانے کے حوالے سے پرائیویسی کے مسائل اٹھا چکا ہے۔ اس کی صلاحیت میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے، جس سے یہ بہت حقیقت پسندانہ اور درست مواد تخلیق کر سکتا ہے، اور یہ جعلی دستاویزات بنانے میں بھی ماہر ہوگیا ہے۔
سائبر کرمنلز کے لیے حکومت کی جاری کردہ شناختی دستاویزات جعل سازی میں مشکل ہوتی تھی، لیکن GPT-4 نے اس کام کو بہت آسان بنا دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں کئی سوشل میڈیا صارفین نے یہ دریافت کیا ہے کہ مؤثر اور درست پرامپٹس کے ذریعے وہ جعلی دستاویزات آسانی سے بنا سکتے ہیں، اور کچھ صارفین نے ان جعلی دستاویزات کی تصاویر مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ”ایکس“ پر شیئر بھی کی ہیں۔
ایک صارف یشوونت سائی پالگھاٹ نے لکھا، ’چیٹ جی پی ٹی جعلی آدھار اور پین کارڈز فوراً بنا رہا ہے، جو ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ ہے۔ اسی لیے اے آئی کو ایک حد تک ریگولیٹ کرنا ضروری ہے۔‘

ایک اور صارف پیکو نے لکھا، ’میں نے اے آئی سے صرف ایک نام، تاریخ پیدائش اور پتہ فراہم کرکے آدھار کارڈ بنانے کو کہا… اور اس نے ایک تقریباً مکمل نقل بنا کر دکھائی۔ اب کوئی بھی آدھار اور پین کارڈ کی جعلی نقل بنا سکتا ہے۔ ہم ڈیٹا پرائیویسی کی بات کرتے ہیں، مگر یہ آدھار اور پین کارڈ کے ڈیٹا سیٹس اے آئی کمپنیوں کو کون فروخت کر رہا ہے تاکہ ایسے ماڈلز بن سکیں؟ اور یہ اتنے درست فارمیٹ کو کیسے جان سکتا ہے؟‘

اگرچہ یہ اے آئی حقیقت میں اصلی ذاتی معلومات کا استعمال نہیں کرتا، تاہم اس نے مشہور شخصیات کے جعلی شناختی کارڈز بھی تخلیق کیے ہیں، جو ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔

اے آئی ماڈلز کی یہ بڑھتی ہوئی صلاحیت ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے، جو سائبر کرائمز اور فراڈ جیسے بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں میں ان کے ملوث ہونے کے امکانات کو بڑھاتی ہے۔