برطانیہ کے دوسرے سب سے بڑے شہر، برمنگھم میں کوڑا اٹھانے والے کارکنوں اور میونسپل حکام کے درمیان جاری تعطل کے باعث شہر کی سڑکوں پر تقریباً 17,000 ٹن کچرا پڑا ہوا ہے۔
یہ کچرا شہر کے مختلف علاقوں میں بکھرا ہوا ہے اور سڑکوں پر کچرے کی سڑی ہوئی بدبو نے ماحول کو آلودہ کر دیا ہے۔ کچھ علاقے تو اتنے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کہ سڑتے ہوئے کچرے کے ڈھیر میں کیڑے اور چوہے بھی نظر آ رہے ہیں، اور وہاں کے ایک رہائشی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے چوہے نے کاٹا ہے۔
اسکوئڈ گیم’ کے بزرگ اداکار کو جنسی زیادتی کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا
برمنگھم کا تاریخی ورثہ اور اس کی صنعتی طاقت نے اسے برطانیہ کا دوسرا بڑا شہر بنایا ہے، لیکن آج یہ شہر کچرے کے بحران میں ڈوبا ہوا ہے۔
ہڑتال کرنے والے کارکنوں اور میونسپل حکام کے درمیان تعطل نے شہر کے مختلف حصوں میں کچرے کے ڈھیر لگا دیے ہیں، جو کہ چوہے، لومڑیوں اور کاکروچ کی آماجگاہ بن گئے ہیں۔ برمنگھم کی میونسپلٹی نے اسے ”بڑا واقعہ“ قرار دیا ہے اور حکومت سے مزید وسائل کی درخواست کی ہے۔
شہر کے مرکز سے دو میل دور سمال ہیٹھ محلے میں کچرے کے ڈھیر کے ڈھیر ہیں، جہاں پلاسٹک کے کالے تھیلے سڑک کے کنارے پڑے ہوئے تھے۔
51 سالہ جواد جوادی، جو کہ ایک ڈیلیوری ڈرائیور ہیں، نے کہا، ”میں نے اس سے پہلے کبھی ایسی صورتحال نہیں دیکھی۔ رات کے وقت چوہے اتنے زیادہ ہیں کہ بلیاں بھی ان کا پیچھا نہیں کرتی ہیں۔“
یہ بحران برمنگھم کے رہائشیوں کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے، اور شہر کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ برمنگھم کی پارلیمنٹ میں بھی اس پر سیاسی بحث چھڑ چکی ہے، جہاں حکومتی وزیر اور حزب اختلاف کے ارکان نے صحت عامہ کے خطرات کا تذکرہ کیا ہے۔ برمنگھم کی قانون ساز پریت کور گل نے بتایا کہ ایک حلقے کے رہائشیوں نے چوہے کے کاٹنے کا شکایت کی ہے۔
یاد رہے کہ ہڑتال کا آغاز جنوری میں ہوا تھا جب 350 سے زائد کارکنوں نے واک آؤٹ شروع کیا تھا، جو کہ بعد میں غیر معینہ مدت کی مکمل ہڑتال میں تبدیل ہو گیا۔