دہلی ہائی کورٹ میں مرحوم میجر موہت شرما کے خاندان نے درخواست دی ہے کہ فلم کی ریلیز فوری طور پر روکی جائے کیونکہ ان کے مطابق فلم بظاہر میجر شرما کی زندگی اور خفیہ مشنز سے متاثر لگتی ہے، اس فلم کیلئے انکے خاندان کی اجازت حاصل نہیں کی گئی۔
درخواست میں کہا گیا کہ اگر فلم میں حقیقی زندگی یا مشنز کے عناصر شامل ہیں تو یہ مرحوم کے بعد کے شخصی حقوق اور خاندان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے اور ممکنہ طور پر قومی سلامتی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
فلم کے ڈائریکٹر ادیتیہ دھڑ نے فوری طور پر وضاحت کی کہ فلم کا میجر شرما سے کوئی تعلق نہیں اور مستقبل میں کسی بھی بایوپک کے لیے خاندان اور بھارتی فوج کی اجازت حاصل کی جائے گی۔
دوسری جانب سندھ پولیس کے شہید افسر چوہدری اسلم کی بیوہ نورین اسلم نے بھی اس فلم پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
نورین اسلم نے بھارتی فلم سازوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلم میں چوہدری اسلم کے کردار اور رحمٰن ڈکیت کو ہیرو دکھانے اور سیاسی جماعت پی پی پی کی مبہم عکاسی کی گئی ہے۔ نورین اسلم نے خبردار کیا کہ اگر فلم میں چوہدری اسلم کے خلاف کوئی پروپیگنڈا کیا گیا تو وہ قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتی ہیں۔
فلم میں رنویر سنگھ، اکشے کھنہ، اور سنجے دت اہم کرداروں میں ہیں۔ فلم کی ریلیز 5 دسمبر کو متوقع ہے لیکن موجودہ قانونی صورتحال کی وجہ سے فلم کی ریلیز غیر یقینی کا شکار ہے۔