اسرائیل نے ظلم و جبر کی نئی تاریخ رقم کردی؛ لکڑیاں جمع کرتے معصوم بچوں پر میزائل چلادیا

غزہ میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں دونوں بھائی 11 سالہ جمعہ اور 8 سالہ فادی شہید ہوگئے جو اپنے زخمی باپ کی مدد کرنے گھر سے نکلے تھے۔

عالمی خبر رساں ادرے کے مطابق جنوبی غزہ کے یہ دونوں بچے اپنے باپ کے شدید زخمی ہونے پر گھر کے استعمال کی لکڑیاں جمع کرنے باہر نکلے تھے اور پھر زندہ لوٹ کر نہ آسکے۔

معصوم بچوں کے خاندان نے بتایا کہ جمعہ اور فادی اپنے زخمی والد کو سردی سے بچانے کے لیے آگ جلانا چاہتے تھے جس کے لیے لکڑیاں درکار تھیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ خان یونس کے علاقے بنی سہیلہ میں دو مشکوک افراد کو یلو لائن عبور کرتے دیکھا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں زمین پر مشکوک سرگرمی میں ملوث دکھائی دیے جو وہ فوجی اہلکاروں کے قریب اس انداز میں آرہے تھے جو فوری خطرہ بن سکتے تھے۔

اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ خطرہ محسوس ہونے پر فضا میں موجود نگرانی فضائیہ نے دونوں کو خطرہ دور کرنے کے لیے نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج نے شہریوں کو وارننگ دی ہے کہ وہ اب بھی غزہ میں موجود اسرائیلی پوزیشنوں کے قریب نہ آئیں۔

فوج نے یلو لائن کے ساتھ ساتھ فزیکل مارکر بھی نصب کرنا شروع کیے ہیں اور اس کے لیے ایک آن لائن نقشہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

تاہم ضعیف، خواتین اور بچے ان یلو لائنز اور مارکر کو پہچان نہیں پاتے۔ اس لیے اسرائیلی فوج کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ دو روز قبل ہی اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے ہاتھ اُٹھا کر عمارت سے باہر آنے والے 2 فلسطینیوں نوجوانوں کو تلاشی کے باوجود گولیوں سے بھون دیا تھا۔

جس پر عالمی سطح شدید تنقید کی گئی تھی اور اسرائیلی حکومت نے انکوائری بھی بٹھائی ہے لیکن آج پھر ایسا جنگی جرم دہرایا جس سے انسانیت شرما گئی۔

 

Similar Posts