ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے اسٹامپ پیپر فیس، کورٹ فیس اور فارن بلز کی مد میں قومی خزانے کو 29کروڑ روپے کا نقصان پہچانے پر سینئیر آڈیٹر عادل مقبول سمیت 71افسروں و اہلکاروں اور اسٹامپ وینڈرز کے خلاف مقدمہ درج کر کے 20 کو گرفتار کرلیا۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل افضل خان نیازی کی سربراہی میں ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کا گرفتاریوں کیلئے کریک ڈاؤن گزشتہ رات کیا گیا۔
حکام کے مطابق تھانہ آبپارہ کے ریکارڈ کی بنیاد پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی سی اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے انکوائری کی تو ثابت ہوا کہ ایف ٹی او اور ڈی آر اے کے افسران و عملے کی مبینہ ملی بھگت سے جعلی اور بوگس لائسنس جمع کرا کے اسٹامپ پیپرز حاصل کیے گئے اور اسٹامپ پیپر فیس، کورٹ فیس اور فارن بلز بھی خزانے میں جمع نہیں کرائے گئے۔
جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون شہزاد ندیم بخاری کی منظوری کے بعد سینئر آڈیٹر عادل مقبول سمیت ایف ٹی او اور ڈی آر اے برانچ کے 71 افسران و اہلکاروں اور اسٹامپ وینڈرز کے خلاف فراڈ دھوکہ دہی، مبینہ کرپشن اور اعانت جرم کی دفعات 109، 409، 420، 467، 471 پی پی سی اور 5(2)47 پی سی اے 1947 کے تحت درج کرلیا گیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق جعلی لائسنسوں پر 2,638 بوگس TR-32 چلان جاری کیے گئے جس سے قومی خزانے کو 29 کروڑ 64 لاکھ 98 ہزار روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا۔
ایف آئی اے کی ٹیم نے اسلام آباد ،راولپنڈی اور دیگر علاقوں میں کریک ڈائون کرتے ہوئے عادل مقبول سمیت 20 ملزمان کو گرفتار کرلیا جبکہ دیگر کی گرفتاریوں کے لیے کریک ڈاؤن جاری ہے۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اصل نقصان کا تعین 10 سالہ فرانزک آڈٹ کے بعد ممکن ہوگا جبکہ تفتیش میں اے ڈی سی آر امتیاز جنجوعہ، سپریٹنڈنٹ محمد ارشد سمیت دیگر متعلقہ افسران کے کردار کا تعین بھی کیا جائے گا۔
ڈپٹی ڈائریکٹر افضل خان نیازی کی نگرانی میں ایس ایچ او شمس خان گوندل اور ٹیم تفتیش میں مصروف ہیں۔