تفصیلات کے مطابق سینیٹر مشاہد حسین سید کو ایشیا۔یورپ پولیٹیکل فورم(اے ای پی ایف ) کے چیئرمین کے طور پر متفقہ طور پر منتخب کر لیا گیا۔ یہ انتخاب اس دو براعظمی تنظیم کے سالانہ اجلاس میں عمل میں آیا جو ہنگری کے دارالحکومت بوداپیسٹ میں منعقد ہوا اور کل اختتام پذیر ہوا۔
یہ کانفرنس ’’یوریشیا میں امن اور جمہوریت‘‘ کے عنوان کے تحت منعقد کی گئی جس کی میزبانی ہنگری کی حکمراں جماعت فیدیز نے کی۔ ہنگری کے سابق نائب وزیر خارجہ ژولٹ نیمیتھ کو یورپ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایشیا۔یورپ پولیٹیکل فورم (اے ای پی ایف ) کا شریک چیئرمین منتخب کیا گیا۔
اس کانفرنس میں 25 ممالک سے تعلق رکھنے والے 35 ارکانِ پارلیمان، سیاسی شخصیات اور تھنک ٹینک کے نمائندگان نے شرکت کی جن میں 15 ایشیا سے اور 10 یورپ سے تھے۔
اپنے عہدے کی قبولیت کی تقریر میں سینیٹر مشاہد حسین، جو انٹرنیشنل کانفرنس آف ایشین پولیٹیکل پارٹیز (ICAPP) کے بھی شریک چیئرمین ہیں، نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انہیں اس منفرد فورم کے لیے دو سالہ مدت کے لیے چیئرمین منتخب کیا کیونکہ ایشیا۔یورپ پولیٹیکل فورم واحد غیر سرکاری ادارہ ہے جو یورپ کے سیاسی نمائندوں، عوامی دانشوروں اور تھنک ٹینکس کو ایشیا کے اپنے ہم منصبوں سے جوڑتا ہے اور اس کے اجلاس باری باری ایشیا اور یورپ میں منعقد ہوتے ہیں۔
مشاہد حسین نے ایشیا میں رابطہ کاری کے فروغ میں پاکستان کے کردار خصوصاً جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان اور اس سے آگے یوریشیا تک خاص طور پر جغرافیائی معیشت (جیو اکنامکس) اور جغرافیائی سیاست (جیو پولیٹکس) کی ابھرتی ہوئی حرکیات کے تناظر پر بھی روشنی ڈالی ۔
انہوں نے پاکستان کو ’’مشرق اور مغرب کے درمیان ایک مثالی پل‘‘ قرار دیا۔ سینیٹر مشاہد حسین نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) جیسے اقدام کے ذریعے رابطہ کاری(کنیکٹیویٹی) کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا جس میں سی پیک کو کلیدی کردار قرار دیا، اس کے علاوہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) جیسے دیگر اداروں کا بھی ذکر کیا۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے بوداپیسٹ میں مدفون مسلمان درویش گل بابا کے مزار پر حاضری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بوداپیسٹ میں گل بابا کا مزار ہنگری کے کثیرالثقافتی ورثے کا مظہر ہےکیونکہ ہنگری ماضی میں سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ رہا جبکہ آج ہنگری یورپی یونین اور نیٹو(NATO) کا رکن ہے۔
اس دورے کے دوران سینیٹر مشاہد حسین اور دیگر وفود کے اعزاز میں ہنگری کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے ساتھ ساتھ یورپی امور کے وزیر کی جانب سے ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔