ٹرمپ کا فراڈ کی نشاندہی پر نقد انعام دینے کا اعلان، یوٹیوبر کی پذیرائی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سرکاری پروگراموں میں دھوکا دہی کی نشاندہی کرنے والوں کو مالی انعام دینے کے لیے ایک نئے پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پہلے انعام کے لیے ٹرمپ کے حامی یوٹیوبر نِک شِرلی کو منتخب کیا گیا ہے، شرلی کی منی سوٹا میں بچوں کی نگہداشت کے بعض مراکز میں مبینہ دھوکا دہی سے متعلق ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں بتایا کہ فراڈ کی نشاندہی کرنے والوں کے لیے ’’فراڈ وِسل بلوئر انسینٹیو پروگرام‘‘ شروع کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اس پروگرام کے تحت رپورٹ کیے گئے فراڈ کی مالیت پر ایک فیصد کمیشن دیا جائے گا، جس کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد مقرر نہیں ہوگی۔
تاہم، امریکی محکمہ انصاف نے اس پروگرام کی تفصیلات مختلف انداز میں بیان کیں۔ محکمے کے مطابق، ایسی اطلاعات دینے والوں کو 10 ہزار سے 30 ہزار ڈالر تک انعام دیا جائے گا جن کی بنیاد پر فوجداری الزامات عائد کیے جائیں۔ محکمہ خزانہ نے اس پروگرام کے لیے ڈھائی کروڑ ڈالر مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ انعام دینے کا حتمی اختیار محکمہ انصاف کے پاس ہوگا۔
پروگرام کے تحت پہلے انعام کے لیے 24 سالہ نِک شرلی کا نام سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے ان کی اس ویڈیو کو سراہا تھا جس میں منی سوٹا میں بچوں کی نگہداشت کے بعض مراکز میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے دعوے کیے گئے تھے۔ انتظامیہ نے اس ویڈیو کو ریاست کے لیے بعض وفاقی فنڈز میں کمی کے منصوبوں کی بنیاد کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔
تاہم، منی سوٹا کے محکمہ برائے اطفال، نوجوانان اور خاندان نے ویڈیو میں کیے گئے بعض دعوؤں کو گمراہ کن اور مبالغہ آمیز قرار دیا تھا۔ دوسری جانب، منیاپولس کی ایک خاتون، جس کے بچوں کی نگہداشت کے مرکز کا ذکر شرلی کی ویڈیو میں کیا گیا تھا، بعد ازاں فراڈ کے الزامات کا اعتراف کرتے ہوئے جرم قبول کر چکی ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے شرلی نے کہا کہ ماضی میں لوگوں کے پاس فراڈ کو بے نقاب کرنے کے لیے کوئی ترغیب نہیں تھی۔ ان کے بقول، جب کوئی شخص دھوکا دہی کی نشاندہی کرتا ہے تو وہ امریکا کو بچانے میں مدد دیتا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی شرلی کی تعریف کی، جو صدر کی انسدادِ فراڈ ٹاسک فورس کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں شہری صحافت کے ذریعے فراڈ کی نشاندہی کرنے والے افراد میں شرلی نے نمایاں کام کیا ہے اور انہیں اس کا مالی انعام ملے گا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ شرلی کو 10 ہزار ڈالر دیے جائیں گے۔ تاہم، یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں اس انعام کے لیے کس طریقہ کار کے تحت منتخب کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس، محکمہ انصاف اور محکمہ خزانہ نے اس بارے میں ای میل کے ذریعے بھیجے گئے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا، جبکہ شرلی سے بھی رابطہ نہیں ہو سکا۔
ٹرمپ نے پروگرام کے تحت انعامات کی ادائیگی کے فیصلوں کے حوالے سے کہا کہ وہ خود ان کا فیصلہ کریں گے۔ ان کے مطابق، وہ انعامات دینے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کریں گے اور اس مد میں اخراجات کم کرنا ان کا مقصد نہیں۔
امریکی صدر نے اپنی موجودہ مدتِ صدارت کے دوران ڈیموکریٹس کے زیرِ انتظام ریاستوں میں مبینہ فراڈ کے الزامات کو نمایاں اہمیت دی ہے اور بدعنوانی کے خاتمے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پرریاست منی سوٹا میں مقیم صومالی تارکینِ وطن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کے لیے توہین آمیز الفاظ بھی استعمال کیے ہیں۔