بھارتی فلم ’اڑتا تیر‘ ریلیز سے پہلے ہی تنازع کا شکار، پاکستان میں شدید تنقید، نیپال میں نمائش پر پابندی

بولی ووڈ اداکارہ سارہ علی خان اور اداکار آیوشمان کھرانہ کی نئی فلم ’اڑتا تیر‘ ریلیز سے پہلے ہی شدید تنازعات کا شکار ہوگئی ہے۔ ایک طرف جہاں پاکستانی سوشل میڈیا صارفین فلم کے پاکستان مخالف موضوع پر شدید برہمی کا اظہار کر رہے ہیں، وہیں دوسری جانب پڑوسی ملک نیپال نے اس کی سینیما گھروں میں نمائش پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم 23 اکتوبر 2026 کو ریلیز ہونے والی ہے۔ فلم کی ہدایت کاری آکاش کوشک نے کی ہے، جبکہ کرن جوہر سمیت دیگر فلم ساز اس کی تیاری میں شامل ہیں۔

پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے فلم کے مبینہ پاکستان مخالف موضوع پر بولی ووڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ بھارتی فلموں میں پاکستان کو بار بار موضوع بنانا مناسب نہیں اور فلم سازوں کو کہانیوں کے لیے دوسرے موضوعات بھی تلاش کرنے چاہییں۔

ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ بولی ووڈ پاکستانی نام اور کہانیاں استعمال کرکے پیسے کماتا ہے، اس لیے پاکستان کو بھی اس کا معاوضہ ملنا چاہیے۔

ایک اور صارف نے سوال اٹھایا کہ بھارتی فلم سازوں کو پاکستان سے اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ بعض صارفین نے یہ بھی کہا کہ جب بھارتی فلموں کو ناظرین کی کمی کا سامنا ہوتا ہے تو پاکستان مخالف کہانیوں کو فلموں میں شامل کیا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ’اڑتا تیر‘ ایک جاسوسی، ایکشن اور مزاحیہ فلم ہے، جس کی کہانی بھارت اور پاکستان کے تعلقات کے پس منظر میں پیش کی گئی ہے۔

فلم میں آیوشمان کھرانہ نے بلال نامی پاکستانی ایجنٹ کا کردار ادا کیا ہے، جو ایک دھماکے میں ملوث ہونے کے بعد زندہ تو بچ جاتا ہے، لیکن اپنی یادداشت کھو بیٹھتا ہے۔

سارہ علی خان کا کردار اس کی یادداشت نہ ہونے کا فائدہ اٹھا کر اسے بھارتی شہری اور محبِ وطن افسر باور کروا دیتا ہے، جس کے بعد وہ اپنے ہی ملک اور سابقہ ایجنسیوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیتا ہے۔

فلم کو نیپال میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپال کے مرکزی فلم سنسر بورڈ نے فلم کی عوامی نمائش کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیپال کی وزارتِ مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے فلم کے تقسیم کار کو خط لکھ کر آگاہ کیا کہ اسے ملک میں عوامی طور پر نہیں دکھایا جا سکتا۔

حکام نے اس فیصلے کے لیے نیپال کے سنیما سے متعلق قانون کی متعلقہ شق کا حوالہ دیا۔ تاہم، وزارت نے یہ واضح نہیں کیا کہ فلم کے کس مخصوص حصے یا موضوع کی وجہ سے نمائش کی اجازت نہیں دی گئی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ فلم میں بھارت اور پاکستان کے تعلقات کو پیش کرنے کا انداز اس فیصلے کی وجہ

واضح رہے کہ کرن جوہر کی دھرم پروڈکشنز کے تحت بننے والی یہ فلم 23 اکتوبر کو سینیما گھروں میں پیش کی جا رہی ہے، تاہم نمائش سے پہلے ہی اسے بین الاقوامی سطح پر شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

Related posts