بھارت کی جین زی میں پاکستانی ڈرامے اور میوزک کیوں مقبول ہو رہے ہیں؟

جہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی اور دفاعی تناؤ برقرار ہے، وہی دونوں ملکوں کی نئی نسل یعنی جنیریشن زی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک دوسرے کی ثقافت کو نئے سرے سے دریافت کر رہی ہے۔ خاص طور پر بھارتی نوجوان پاکستانی گلوکاروں، ڈراموں اور سوشل میڈیا فنکاروں کو بے حد پسند کر رہے ہیں۔

نئی نسل سیاسی اختلافات سے ہٹ کر موسیقی، کہانیوں، لباس اور تفریح کے ذریعے ایک دوسرے کی ثقافت سے واقف ہو رہی ہے۔ پاکستانی ڈرامے ’درِ نجات‘ اور ’مٹی دے باوے‘ سمیت مختلف گانوں اور فنکاروں کے کام کو بھارتی نوجوانوں میں توجہ مل رہی ہے۔

پاکستانی موسیقی کی بھارت میں مقبولیت کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں ریشماں کا گانا ’لمبی جدائی‘ بھارتی سامعین میں بے حد مقبول ہوا، جبکہ مہدی حسن کی غزلوں، غلام علی کی گائیکی اور نصرت فتح علی خان کی قوالیوں نے بھی سرحد کے دونوں جانب لوگوں کے دل جیتے۔

بعد میں عاطف اسلم اور راحت فتح علی خان نے بولی ووڈ فلموں کے لیے گانے گائے، جنہیں بھارتی سامعین نے پسند کیا۔ ان فنکاروں کی آوازیں رومانوی گانوں اور موسیقی کے شائقین میں خاصی مقبول رہیں۔

اس مقبولیت کی ایک بڑی وجہ دونوں ملکوں کی مشترکہ ثقافتی تاریخ ہے۔ اردو شاعری، پنجابی لوک موسیقی، صوفی کلام اور برصغیر کی روایتی موسیقی ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں۔

فرق صرف یہ ہے کہ پہلے موسیقی کی مقبولیت میں ریڈیو، ٹیلی ویژن اور فلموں کا بڑا کردار تھا، جبکہ اب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے نوجوانوں کو براہِ راست رسائی فراہم کر دی ہے۔

پاکستانی ڈرامے بھی بھارتی ناظرین کی توجہ حاصل کرتے رہے ہیں۔ ’ہمسفر‘ اور ’زندگی گلزار ہے‘ جیسے ڈراموں نے ماضی میں بھارتی ناظرین میں مقبولیت حاصل کی تھی اور اب ’درِ نجات‘ اور ماہرہ خان و وہاج علی کا ڈرامہ ’مٹی دے باوے‘ بھارتی نوجوانوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں جس کی کہانی پنجابی معاشرت، طبقاتی فرق، محبت اور بدلے جیسے موضوعات کے گرد گھومتی ہے۔

ایسی کہانیوں میں خاندانی رشتوں، محبت، سماجی مسائل اور روزمرہ زندگی کی عکاسی نوجوان ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ مشترکہ زبان اور ثقافتی انداز بھی ان ڈراموں کو سرحد پار سمجھنے میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔

موسیقی کے شعبے میں بھی تبدیلی کی رفتار تیز ہے۔ علی سیٹھی اور شائے گل کے گانے ’پسوڑی‘ کے علاوہ عبدالحنان اور حسن رحیم جیسے جدید فنکاروں کے گانوں نے سرحدی حدبندیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ گانے الفاظ اور پار چنادہ جیسے نغمے بھی سرحد پار یکساں مقبول ہو رہے ہیں۔ جنیریشن زی کے لیے کسی گانے یا ڈرامے کی قومی حیثیت سے زیادہ اس کی دھن، بول اور کہانی کی اہمیت ہے۔

اس دلچسپی کو سیاسی نقطہ نظر سے الگ دیکھنا ضروری ہے۔ دہشت گردی، قومی سلامتی کے خدشات اور سفارتی مسائل ایک حقیقت ہیں، اور کسی ملک کا ڈرامہ یا گانا پسند کرنے کا مطلب اس ملک کی سیاسی پالیسیوں کی حمایت کرنا نہیں ہوتا۔ نئی نسل فن اور سیاست میں واضح تفریق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آج کی نوجوان نسل نے تقسیم کا دور خود نہیں دیکھا بلکہ اس کی یادیں ان تک منتقل ہوئی ہیں۔ ان کے لیے کسی پاکستانی گانے یا ڈرامے کا انتخاب کرنا کوئی سیاسی بیان نہیں بلکہ محض ایک اچھی کہانی یا دلکش دھن سے لطف اندوز ہونے کا طریقہ ہے۔

Related posts