ٹائیگر شروف فائرنگ کیس میں نیا موڑ، بشنوئی گینگ کا نشانہ عامر خان تھے: بھارتی پولیس
بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر ہونے والی حالیہ فائرنگ کے کیس میں ممبئی پولیس نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملہ آوروں کا اصل ہدف بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان تھے۔ حملہ آوروں کا تعلق مبینہ طور پر بشنوئی گینگ سے بھی بتایا جارہا ہے، جہاں سے انہیں ہدایات مل رہی تھیں۔
بالی ووڈ اداکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات نے ممبئی پولیس کی تفتیش کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق، اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر 18 اکتوبر کو ہونے والی فائرنگ کے ملزمان کو مبینہ طور پر پہلے عامر خان کو نشانہ بنانے کا کہا گیا تھا، تاہم ان تک پہنچنا مشکل ہونے کے باعث انہوں نے ٹائیگر شروف کو ہدف بنا لیا۔
پولیس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ مبینہ حملہ آور تقریباً ایک ماہ تک ممبئی میں رہے اور اس دوران کم از کم تین مرتبہ عامر خان کی رہائش گاہ کے اطراف نگرانی کی۔ تاہم، وہ اکثر فلموں کی شوٹنگ کے لیے باہر ہوتے تھے یا کئی دن گھر کے اندر رہتے تھے، جس کی وجہ سے ملزمان کے لیے ان تک پہنچنا مشکل تھا۔
اس کے برعکس ٹائیگر شروف ہر اتوار ممبئی کے علاقے جوہو کے ایک پارک میں فٹ بال کھیلنے آتے تھے۔ مبینہ حملہ آوروں نے انہیں نسبتاً آسان ہدف سمجھا اور 18 اکتوبر کو اسی مقام کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ واقعے میں ٹائیگر شروف زیادہ زخمی نہیں ہوئے، تاہم ان کے ڈرائیور اور ایک راہ گیر کو چوٹیں آئیں۔ پولیس کے مطابق، حملہ آوروں نے پانچ سے چھ گولیاں چلائیں اور موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ عامر خان کو نشانہ بنانے کا مبینہ منصوبہ ان دھمکیوں سے بھی مطابقت رکھتا ہے جو انہیں جولائی میں موصول ہوئی تھیں۔ ان دھمکیوں کا تعلق مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ سے بتایا گیا تھا۔
اس سے پہلے بھارتی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کی تھا کہ اس حملے کا اصل ہدف سلمان خان تھے، لیکن اب پولیس کی مزید تفتیش کے بعد زرائع کا کہنا ہے کہ اصل ہدف عامرخان تھے۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق، ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کو شبہ ہے کہ تینوں مبینہ حملہ آوروں کو اپنے سرپرستوں سے خفیہ انٹرنیٹ پیغام رسانی کی ایپس کے ذریعے تفتیش اور پولیس کی کارروائیوں سے متعلق تازہ معلومات مل رہی تھیں۔ ٹی وی چینلز پر حملے کی تصاویر نشر ہونے کے بعد مبینہ طور پر ایک ملزم کو پیغام بھیجا گیا کہ ان کے چہرے سامنے آگئے ہیں، اس لیے وہاں سے نکل جائیں۔
پولیس کے مطابق، ملزمان نے فرار ہونے کے دوران بار بار سفری ذرائع تبدیل کیے۔ وہ موٹر سائیکل، ٹرین اور ٹیکسی کے ذریعے سفر کرتے رہے اور سورت سے بس میں سوار ہونے کا منصوبہ بنایا، تاہم بس ٹرمینل پر تاخیر کے باعث انہوں نے دوسری ٹرین پکڑ لی۔ ممبئی پولیس کی اطلاع پر راجستھان کی کوٹا پولیس نے 19 اکتوبر کو ٹرین میں سفر کے دوران تینوں کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت 18 سالہ پھول سنگھ، 18 سالہ ریحان رحی الدین انصاری اور22 سالہ رتھک مہتو کے نام سے ہوئی ہے۔ انہیں 31 اکتوبر تک پولیس تحویل میں دیا گیا ہے۔
تفتیش کے دوران سورت سے دو پستول اور 10 زندہ کارتوس بھی برآمد کیے گئے۔ حکام کے مطابق، اسلحے کو فرانزک اور بیلسٹک جانچ کے لیے بھیجا گیا ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا یہ جائے وقوعہ سے ملنے والے خولوں سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔
اس کے علاوہ، ممبئی کرائم برانچ اور مقامی پولیس کی مشترکہ کارروائی میں اندور سے 22 سالہ پرنجَل ٹھاکران کو بھی حراست میں لیا گیا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس نے مبینہ حملہ آوروں یا منصوبہ بندی میں شامل اہم افراد کو مالی، عملی یا دیگر مدد فراہم کی تھی۔ پولیس کے مطابق، اس گرفتاری کے بعد کیس میں حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔ گرفتاریاں راجستھان، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور ہریانہ میں کی گئی ہیں۔
ممبئی پولیس نے گینگسٹر انیل پنڈت کو بھی اس مقدمے میں مطلوب ملزم قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق، لارنس بشنوئی گینگ سے مبینہ تعلق رکھنے والے پنڈت کے بارے میں خیال ہے کہ وہ امریکا میں موجود ہے۔ اس نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے 18 اکتوبر کے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ تاہم، واقعے کے تمام پہلوؤں اور ملزمان کے مبینہ رابطوں کی تحقیقات جاری ہیں۔