پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یومِ سیاہ کشمیر منا رہے ہیں

پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر سمیت ملک بھر میں آج 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ کشمیر منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔

اس موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، جبکہ سیاسی قیادت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دلانے کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے۔

27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج سری نگر میں داخل ہوئی تھیں، جسے پاکستان اور کشمیری قیادت کشمیر پر بھارتی قبضے کے آغاز کے طور پر دیکھتی ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل اور مہاراجہ ہری سنگھ کے الحاق کا معاملہ تنازع کا باعث بنا۔ تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود مسئلہ کشمیر حل طلب ہے اور کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کا مطالبہ جاری ہے۔

اسلام آباد میں یومِ سیاہ کشمیر کے سلسلے میں وزارتِ خارجہ سے ڈی چوک کی جانب ریلی نکالی گئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور شہریوں نے شرکت کی۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے آٹھ دہائیاں قبل کشمیر پر قبضے کا بھیانک قدم اٹھایا تھا، تاہم دنیا مسئلہ کشمیر کو نہیں بھولی۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام سے ان کا حقِ خودارادیت کوئی نہیں چھین سکتا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق دیا جانا چاہیے، جبکہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اٹھایا ہے اور کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازع کشمیر کے پرامن حل کے لیے عالمی کوششیں ناگزیر ہیں اور پاکستان متعلقہ عالمی فورمز پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا۔

وفاقی وزیر امیر مقام نے بھی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام نے کبھی غیرقانونی بھارتی تسلط قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام جدوجہدِ آزادی میں کشمیریوں کے شانہ بشانہ ہیں اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے یومِ سیاہ کشمیر پر اپنے پیغام میں مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کی مذمت کرتے ہوئے کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود کشمیری اپنے بنیادی حق سے محروم ہیں، جو عالمی ضمیر اور انصاف کے دعوؤں پر سوال اٹھاتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر محض ایک خطہ نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی آزادی اور شناخت کا مسئلہ ہے۔ کشمیری عوام کی عزتِ نفس اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے بنیادی حق کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی کشمیری عوام کی قربانیوں اور حقِ خودارادیت کے لیے ان کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ طاقت، جبر اور سیاسی پابندیوں کے ذریعے کسی قوم کے حقِ خودارادیت کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر صرف سرحدی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور عالمی وعدوں کی پاسداری کا معاملہ بھی ہے۔

ادھر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں یومِ سیاہ کشمیر کے سلسلے میں نکالی گئی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے اور تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے چاہتا ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا نے پاکستان کے سفارتی کردار کا ذکر کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان معاملے کے حل میں بھی پاکستان کے کردار کا دعویٰ کیا۔

یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے خصوصی نغمہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

نغمے میں کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی، ثابت قدمی اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین اور بچوں کو درپیش مشکلات اور بھارتی مظالم کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ نغمے میں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور برہان وانی کو جدوجہدِ آزادی کی نمایاں شخصیات کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ اختتام پر کشمیری عوام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

آزاد جموں و کشمیر میں بھی یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر مقبوضہ کشمیر کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ شہریوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج کے داخلے کے خلاف کشمیری عوام کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دیا جائے اور عالمی برادری بھارتی تسلط کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ گہرے اور اٹوٹ رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور ان کی جدوجہد میں حمایت جاری رہنی چاہیے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کی تحصیل رزمک میں بھی یومِ سیاہ کشمیر کے سلسلے میں مختلف مقامات پر پاکستانی اور کشمیری پرچموں کے ساتھ بینرز آویزاں کیے گئے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات ڈپٹی کمشنر کی ہدایات پر کیے گئے، جن کا مقصد کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی سے یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرنا ہے۔

پنجاب کے شہر شورکوٹ میں بھی کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نکالی گئی، جس میں سیاسی و سماجی شخصیات، مختلف محکموں کے سربراہان اور اسکولوں کے بچوں نے شرکت کی۔ ریلی اسسٹنٹ کمشنر آفس سے شروع ہوئی اور تحصیل چوک پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔

دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر کے اضلاع میرپور اور بھمبر کے شہریوں نے احتجاجی سرگرمیوں کے باعث سیاحت، تعلیم اور کاروبار سمیت مختلف شعبوں کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Related posts