مہنگائی نہیں …نسل کشی

کلمہ طیبہ کے نام پر بنے پاکستان میں ہر طرف ظلم و بربریت کا بازار گرم ہے۔ غربت و افلاس کی ماری عوام کے جاری معاشی قتل عام کے دوران ان کی تڑپتی زندہ لاشوں سے کشیدہ خون سے رنگین نوٹوں سے حکمران اپنی تجوریاں بھرنے اور اپنے آتش کدے روشن رکھنے میں ہمہ وقت مصروف رہے ہیں۔

مگر گزشتہ ایک دہائی سے مہنگائی کا جن بے قابو ہو کر باقاعدہ عوام کی نسل کشی پر اتر آیا ہے۔ حکمرانوں کی حرص و لالچ اور ریاستی بے حسی کی وجہ سے مہنگائی اذیت ناک عذاب اور ڈراؤنے خواب کی شکل اختیار کرچکی ہے۔

مگر یہ صرف مہنگائی نہیں ریاستی سرپرستی میں عوام کے معاشی قتل عام اور نسل کشی کا منظم منصوبہ ہے، جس میں مہنگائی کا بے قابو بربری جن غریب کے دروازے پر دستک دینا اپنی توہین اور تالے توڑ کر، دیواریں پھلانگ کر گھر میں گھس کر سانسیں چھیننا اپنا حق سمجھتا ہے۔

مہنگائی کا بے قابو جن دبے پاؤں نہیں چیختے، چلاتے، چنگھاڑتے اور دھاڑتے ہوئے انسانوں کو جیتے جی مار رہا ہے۔ مہنگائی کی اس آگ کو کسی دشمن نے نہیں ہماری اشرافیہ نے بھڑکایا اور ریاستی بے حسی نے جلتی پر تیل کے مصداق اس آگ کو جہنم نما بنا دیا ہے۔

ڈکیتیوں پر گزارہ کرنے والی راہزن اشرافیہ اور حکمران طبقہ محفوظ و آرام دہ پناہ گاہوں میں بیٹھ کر جہنم نما آگ میں جلنے والے عوام الناس کو صبر و شکر کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ ان کو کیا پتہ بھوک کیا ہوتی ہے۔

اس کی روح کو تڑپانے والے زہریلے اثرات اس ماں سے پوچھیں جس کے بچے بھوک کی وجہ سے تڑپتے ہوئے اس کی گود میں مر رہے ہیں۔ غریب کے لیے سوکھی روٹی کے چند نوالے گوہر نایاب اور چند قطرے پانی آب حیات بن چکے ہیں۔

آٹا ترازو پر تول کر عزت نفس کے عوض مل رہا ہے۔ سبزی، دال، دودھ اور گوشت اب اشرافیہ کی ملکیت اور غریب کی دسترس سے باہر ہیں۔ ماں سارا دن اس اذیت اور شرمندگی میں گزارتی ہے کہ آج بچوں کا پیٹ کون سے نئے جھوٹ سے بھرے گی۔

جوانی میں باپ کی کمر جھک گئی ہے کیونکہ اول تو روزگار نہیں اور اگر روزگار ہے تو تنخواہ اتنی ملتی ہے جس پر بچوں کا پیٹ بھرا جاسکتا ہے نہ اپنے لیے کفن خریدا جاسکتا ہے۔ تنخواہ دار باپ کو اپنا قد ہر مہینے چھوٹا ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

مگر افسوس کہ اشرافیہ اور حکمران طبقہ کو غریب پرور بجٹ پیش اور پاس کرتے وقت یہ زمینی حقیقتیں نظر نہیں آتیں۔ بلا تفریق ہر دور کی اپوزیشن بجٹ تقاریر کے دوران شور و غوغا تو کرتے ہیں مگر وہ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو غریب کے گلے کو مزید کند چھری سے کاٹتے ہیں۔

درحقیقت عوام الناس کے معاشی قتل عام اور نسل کشی پر اپوزیشن اور حکومتی پارٹیاں ہمیشہ مکمل طور پر یکسو اور متفق ہوتی ہیں۔ حکمرانوں کی بے حسی، مفاد پرستی اور ناعاقبت اندیشی سے مسلط کی گئی مہنگائی پورے سماج کو اندر سے کھوکھلا کر گئی ہے۔

علاج معالجہ ایک منافع بخش اور غریب کش کاروبار بن چکا ہے۔ بیماری عوام الناس کے جسموں سے زیادہ جیبوں پر حملہ آور ہوتی ہے۔ سرکاری اسپتال قبرستان اور پرائیویٹ اسپتال فائیو اسٹار ہوٹلوں کا منظر پیش کررہے ہیں۔

غریب مریض بیماری اور اہل خانہ ادویات کی قیمتوں کے نیچے دب کر مرتے ہیں۔ والدین اپنے جگر گوشوں کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانے سے کتراتے ہوئے گھبراتے ہیں کیونکہ بھاری بھرکم فیس ان کی غربت کا مذاق اڑاتی ہے۔

مہنگائی کے اس طوفان میں تعلیم ترقی کا زینہ نہیں، طبقاتی چھلنی بن چکی ہے۔ عوام کے لیے ہوشربا فیسیں ادا کرنا اور مہنگی کتابیں خریدنا خواب و خیال بن چکے ہیں۔ غریب کا بچہ اسکول چھوڑتا نہیں نظام اسے دھکے دے کر باہر نکالتا ہے۔

نوجوان ہاتھ میں ڈگری نہیں بے روزگاری کا طوق لیے پھرتے ہیں۔ ذہنی دباؤ، غصہ اور لاچارگی غربت کے مارے نوجوانوں کے لیے مستقل روگ بن چکا ہے۔

حیران و پریشان ہوں کہ اپنے گریبان میں جھانکنے سے گریزاں حکمران اور ریاست سب کچھ جانتے ہوئے نوجوانوں کے بگڑنے سے پریشان کیوں ہیں؟ غربت کے مارے نسل نو کو باقاعدہ ایک منظم منصوبہ بندی سے جان بوجھ کر توڑا جا رہا ہے مگر آخر کیوں؟

تنخواہیں منجمد مگردرندہ صفت اور غریب کش قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ تنخواہ دھوکے اور فریب کا روپ اور ضروریات زندگی، بجلی، گیس اور پٹرول جیسی سہولتیں اجتماعی سزا کا روپ دھار چکی ہیں۔

بجلی اور گیس کا ماہانہ بل غربت کا مذاق اڑاتے ہوئے اس پیغام اور یاد دہانی کے ساتھ آتا ہے کہ غربت ناقابل ضمانت اور قابل دست اندازی جرم ہے۔ ادھار مانگنے اور دینے والے کے لیے گالی بن چکی ہے، نظریں جھکا کر ادھار خیرات کی طرح مانگا جاتا ہے ادھار سے خیرات کا یہ سفر اس بے حس نظام اور ریاست کا کارنامہ ہے۔

خود دار عوام کی نظریں جھکا کر زندگی گزارنے کا ذمے دار بھی ریاستی جبر اور نظام ہے۔ یہ صرف معاشی بحران نہیں غریب کو اس کی عزت نفس سے محروم کرنے کا منظم منصوبہ ہے جس کے ذمے دار ذخیرہ اندوز، منافع خورمافیا، نااہل، جعلی، مفاد پرست اور خودغرض حکمران اور اس ملک کے فیصلہ ساز ہیں جن کے لیے احتساب کا خوف دفن، قانون گھر کی لونڈی اور غریب کے گلے کا پھندا بن چکا ہے۔

ذخیرہ اندوزوں کے گودام بھرے پڑے ہیں مگر عوام کے گھروں میں چولہے سرد ہیں۔ ضروریات زندگی کے نرخ آسمان کو چھو رہے ہیں غریب ماں باپ اپنے جگر گوشوں کو اپنے ہاتھوں سے مار کر خودکشیاں کر رہے ہیں مگر عوام کے نمائندگی کے دعوے دار حکمرانوں کے ایوانوں اور محلات میں مجرمانہ خاموشی ہے۔ یہ خاموشی لاعلمی نہیں غریبوں کے خون کے پیاسوں کا انسانیت سوز مذاق ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ریاست نے جب بھی آنکھیں بند کیں تو لوٹ مار قانون اور غاصب جج بن جاتے ہیں۔ نااہل اور غاصب حکمران بیانات دیتے، اجلاس اور کمیٹیاں بنا کر قوم کے ٹیکسوں پر مزید عیاشیاں کرکے مسائل کو بے حسی اور مفاد پرستی کے قبرستان میں دفن کردیتے ہیں۔

زبانی جمع خرچ کی برسات مگر عمل کا قحط جاری رہتا ہے۔ عوام کے صبر و شکر کو بھوک و افلاس چاٹ چکی ہے مگر حکمران پھر بھی عوام کو صبر و شکر کی تلقین اور اپنے لیے ہل من مزید کے نعرے لگاتے ہیں۔

صبر و شکر اور قربانی کا درس وہ طبقہ دے رہا ہے جن کے دسترخوان غریبوں کے خون آلود نعمتوں سے بھرے پڑے ہیں، جن کے بچے پڑھنے یورپ اور مریض علاج کرانے امریکا جاتے ہیں۔ ان کی طرف سے صبر و شکر کی تلقین مذاق، درندگی، ننگی معاشی جارحیت اور عوام کے زخموں پر مرہم کی جگہ نمک پاشی کے مترادف ہے جو اشرافیہ کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔

مہنگائی کے جن نے شرقاً غرباً اور چاروں طرف غدر مچایا ہوا ہے مگر پسماندہ علاقوں کے لوگ جو روز اول سے ریاستی نظروں سے اوجھل تھے اس مہنگائی نے ان کو جیتے جی مار دیا ہے۔ آج اشرافیہ کے لیے سونا خریدنا سبزی اور عوام کے لیے ٹماٹر خریدنا سونا خریدنے کے مترادف ہے۔

95 فیصد پاکستانیوں کی آمدن گھٹ اور اخراجات بڑھ رہے ہیں مگر حکمران خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ مہنگائی کے ہاتھوں دم توڑتے انسانوں کی چیخیں اقتدار کے ہوا بند محلات میں نہیں سنی جا رہی ہیں۔ حکمرانوں کی عیاشیوں کے لیے قرض پر قرض لیے جا رہے ہیں۔

عوام دشمن ترجیحات کے نتیجے میں ملکی معیشت پر چند طاقتور قابض ہیں۔ لگتا ہے کہ اس ملک کے غریبوں کی زندگی کا مقصد حکمرانوں کی نااہلی کی قیمت اپنے خون سے ادا کرنے کے سوا کچھ نہیں، احتجاج کرنے پر لاٹھی چارج، سوال کرے تو غداری اور ملک دشمنی کا سرٹیفکیٹ گلے میں ڈال دیا جاتا ہے اور اگر پیٹ پر پتھر باندھ کر بھوک کے مارے خاموشی سے مرے تو کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

اے خوف خدا سے عاری اور عوام کے خون کے پیاسے نااہل حکمرانوں کب جاگو گے خواب غفلت سے؟ اور کب کروگے روز محشر کی تیاری؟ یا اس دنیا میں مخلوق خدا کے قہر اور روز محشر قہار و منتقم خالق کے قہر اور انتقام کے منتظر ہیں آپ لوگ؟

Similar Posts