ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات

رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں ترقیاتی منصوبوں پر محض 91 ارب 90 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ وزارت منصوبہ بندی کے دستاویزات کے مطابق ایک ہزار روپے ترقیاتی بجٹ کا محض 9.2 فی صد ہی خرچ ہو سکا۔

یہ محض ایک خبر نہیں ایک عدد نہیں بلکہ ایک اعتراف ہے کہ معاشی ترقی کی دوڑ میں ہم نے ترقیاتی اخراجات کو ہی سب سے آخر میں بٹھا دیا ہے۔ مالی سال کے 5 ماہ گزر گئے یعنی 42 فی صد وقت گزر گیا اور محض ایک قلیل مقدار میں سرمایہ خرچ ہوا جوکہ ترقی کے نام پر سانس لینے کے لیے بھی ناکافی ہے۔

ترقیاتی بجٹ کا مختص کیا جانا کوئی خیرات نہیں کہ اس کے خرچ میں کمی بیشی کر لی جائے، یہ وہ بیج ہے جو آج بویا جائے جس سے ترقیاتی اسکیمیں مکمل ہوں، قوم سکھ کا سانس لے اور کل ترقی کے راستے پر کھڑی ہو۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد جب یورپ تباہ حال ہو چکا تھا، ضرورت اس بات کی تھی کہ خوب کفایت شعاری سے کام لیا جائے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ انھوں نے قرض لے کر بھی دل کھول کر ترقیاتی اخراجات کیے۔

کیونکہ یورپ سمجھ چکا تھا کہ صرف رونے دھونے اور اپنے مالیات کی کمی کی شکایت کرنے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا، انھوں نے اپنے خرچے بچا بچا کر اشرافیہ پر لگانے کے بجائے اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقے کو مزید سہولیات دینے کے بجائے اپنے ذرایع سے اور آئی ایم ایف سے بلاشرط رقم لے کر اپنے ترقیاتی منصوبوں پر دل کھول کر خرچ کیا۔

اس سے لوگوں کو روزگار ملا۔ آہستہ آہستہ عوام خوش حال ہونے لگے۔ ترقیاتی منصوبے مکمل ہونے سے عوام کو سکون ملا۔ ان منصوبوں کو روک کر رکھنے اور پھر اس کی لاگت میں دگنا اضافہ ہونے دینے کے بجائے وقت پر مکمل کر لیا کرتے تھے تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے اور ہم نے معیشت کو حساب کتاب میں قید کر دیا، معاشی ترقی کو بھول گئے۔

ترقی جب رک جاتی ہے تو روزگار بھی رک جاتا ہے ترقی کی امید سکڑ جاتی ہے۔ فلاح و بہبود مایوسی کا شکار ہوکر رہ جاتی ہے۔

بات دراصل یہ تھی کہ رواں برس کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 346 ارب روپے کے اجرا کی منظوری دے دی گئی تھی۔ اول تو یہ رقم انتہائی کم ہے لیکن 91 ارب تو اس کا ایک چوتھائی بنتا ہے جو خرچ کیا گیا۔ اس طرح ہزاروں منصوبوں کی رفتار سست پڑ گئی۔

لاکھوں ممکنہ روزگار ختم ہو کر رہ گئے، بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر معطل ہو کر رہ گئی۔ ہزاروں اسکول جن کی چھتوں کے پلستر تک اکھڑ گئے اور طالب علم سہمے ہوئے ایک طرف سکڑ کر بیٹھ گئے۔ 

اسپتال میں داخل ہوتے وقت مریض کا دل اور بوجھل ہو جاتا ہے کہ اسپتال کی ترقی کے دروازے فی الحال بند ہیں اور نوجوان مایوس ہو کر دوسرے ملکوں کے لیے ویزے کی قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں، اگر اسے مالی استحکام کہا جائے تو غلط ہوگا۔

یہ مالی نظم نہیں ہے یہ قومی بحران ہے۔ اسے بیرونی نظر سے دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ بھارت، چین، بنگلہ دیش، ویتنام اور دیگر ملکوں نے مشکل وقت میں ترقیاتی اخراجات کو سہارا بنایا اور ہم ہر بحران میں ترقیاتی اخراجات کی گردن مروڑ دیتے ہیں۔

ہماری ترجیحات بدل چکی ہیں، ہماری سڑکیں تاحال مرمت کی آس لیے بیٹھی ہیں، اسکولوں کی گرتی ہوئی دیواریں ابھی تک آس لگا کر تھم کر کھڑی ہیں لیکن دوسری طرف غیر ترقیاتی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اشرافیہ اور دیگر بہت سے مراعات یافتہ طبقے کی سہولیات میں کوئی اکنامی کٹ نہیں لگایا جاتا اور پاکستانی عوام کے فلاح و بہبود کے منصوبوں کی قربانی ہر بار اور بار بار دی جاتی ہے۔

سڑکوں کو مکمل کرنے کے لیے درمیان میں فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر روک دی جاتی ہیں، اسپتالوں کی ادویات کا خرچ روک دیا جاتا ہے، اسپتال کی تعمیر نامکمل رہ جاتی ہے، پُل بننے کے انتظار میں عوام برسہا برس گزار دیتے ہیں۔

اس پانچ ماہ میں پھر ایسا ہی کیا ہے۔ ہم اپنے ماضی سے سبق حاصل کر لیں اس وقت کم سے کم شرح ترقی پر گزارا کر رہے ہیں کبھی ترقی کی شرح 6 یا7 فی صد بھی تھی۔ ماضی گواہ ہے کہ 2002 ہو یا 2003 ہو یا 2004 تقریباً ایک عشرے تک ترقیاتی اخراجات کو ترجیح دی گئی۔

سڑکوں کی تعمیر ہوئی، لوگوں کو روزگار ملا، اسکولوں کی ٹوٹی ہوئی دیواروں کو سہارا دیا گیا، نئے نئے اسکول کالجز یونیورسٹیاں بنائی گئیں، صحت کے نام پر دل کھول کر خرچ کیا گیا، پلوں کی تعمیر میں اضافہ ہوا، اس وقت کی حکومت نے اس بات کو ترجیح دی کہ عوامی فلاحی منصوبوں پر زیادہ سے زیادہ خرچ کیا جائے تاکہ معاشی ترقی کی زیادہ شرح بھی حاصل ہو۔

اعداد دیکھ لیں تو 2007 تک معاشی ترقی کی شرح بلند رہی۔ کبھی 6 فی صد کبھی 7 فی صد شرح ترقی رہی۔

دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جو مالی دباؤ کے باوجود انفرا اسٹرکچر ہاؤسنگ، ڈیجیٹل سروسز اور عوامی فلاحی منصوبوں کے لیے دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔

اگر عالمی معاشی ترقی کو دیکھیں تو یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ بحران میں ترقیاتی اخراجات میں کمی لانا کمزوری ہے اور بحران میں ترقیاتی اخراجات کو جاری رکھنا، ترقی کے دروازے کھولتا ہے۔

ہم جنگ سے تباہ حال ویتنام سے سبق سیکھ لیں جس نے محدود وسائل کے باوجود ترقیاتی بجٹ کو برآمدات اور روزگار سے جوڑ دیا اور آج وہ دنیا کے اہم برآمدی ملک کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

ٹیکسٹائل کی صنعت میں اس کا بڑا نام ہے اور ہم ٹیکسٹائل کی صنعت میں اول پوزیشن رکھتے تھے اور اب کہاں ہیں؟

سب بخوبی جانتے ہیں۔ پاکستان کے مالی نظم و ضبط کا یہ مطلب نہیں کہ ترقیاتی اخراجات کو روک دیا جائے بلکہ منصوبوں پر خرچے اس لیے کریں کہ وقت پر مکمل کرنا ہے تاکہ عوام کو روزگار بھی ملے اور عوامی منصوبوں کا فائدہ بھی ہو۔ ملک جلد شاہراہ ترقی پر گامزن ہو۔

Similar Posts