ڈیل کا واحد ذریعہ صرف مذاکرات

0 minutes, 0 seconds Read
تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اور قانون دان سلمان راجہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل قبول نہیں کریں گے وہ مسلسل قید کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں مگر اپنے اصولی موقف سے دستبردار نہیں ہوئے۔ لاہور میں کے پی کے وزیر اعلیٰ اور بانی کی ہمشیرہ تسلیم کر چکے ہیں کہ بانی نے حکومت سے مذاکرات کا اختیار پی ٹی آئی سے تعلق نہ رکھنے والے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دے دیا ہے ۔

بلوچ رہنماؤں میں سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل اور (ن) لیگ کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان دو اہم سیاسی رہنما جو اپنی چھوٹی پارٹیوں کے سربراہ ہیں وہ حکومت کی مخالفت میں پی ٹی آئی کے قریب ہیں اور دونوں ماضی میں نواز شریف کے قریب رہے ہیں اور محمود خان بھی نواز شریف کی حکومت میں اتنے قریب تھے کہ انھوں نے اپنے بھائی کو گورنر بلوچستان بنوایا تھا اور مولانا فضل الرحمن بھی شریف فیملی کے اتحادی رہے ہیں جب کہ علامہ ناصر عباس کسی خاص سیاسی اہمیت کے حامل نہیں رہے مگر بانی نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے شاہد خاقان عباسی اور بلوچ رہنما اختر مینگل کو اہمیت دی اور نہ اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے کے پی کے رہنما کو اس قابل سمجھا کہ انھیں حکومت سے مذاکرات کا اختیار دیتے۔

بانی نے اپنی سیاسی ناعاقبت اندیشی کا ایک بار پھر مظاہرہ شاید اس لیے کیا کہ محمود خان اور علامہ ناصر اگر حکومت سے کامیاب مذاکرات کر لیتے ہیں تو بانی انھیں ماننے سے انکار کر دیں کیونکہ حکومت سے مذاکرات میں بانی کی رہائی کا ایجنڈا تو شامل ہے ہی نہیں اور مذاکرات کے حامل دونوں پی ٹی آئی سے تعلق نہ رکھنے والے یہ رہنما پی ٹی آئی تحریک آئین بحالی چاہتے ہیں اور انھوں نے حکومت سے مذاکرات جو اگر ہوئے تو ان میں حکومت کی آئین میں حالیہ ترمیموں کے خاتمے کا مطالبہ کرنا ہے جو حکومت کو کسی صورت قبول نہیں ہوگا اور مذاکرات ناکام رہیں گے۔

بانی کی ہمشیرہ جو اپنے بھائی کی ترجمانی کرتی ہیں پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ بانی نے واضح کر دیا ہے کہ مذاکرات کرنے والے پی ٹی آئی کے نہیں ہوں گے اور اسی لیے انھوں نے پی ٹی آئی سے تعلق نہ رکھنے والوں کو حکومت سے مذاکرات کا اختیار دیا ہے اور اپنا کوئی رہنما شامل نہیں کیا۔

مذاکرات اپنے مطالبات منوانے، کچھ لو کچھ دو کے تحت ڈیل کے لیے کیے جاتے ہیں اور اگر تحریک تحفظ آئین کے دونوں رہنما حکومت سے صرف آئین کی بحالی پر مذاکرات پر تیار ہیں اور محمود خان اچکزئی نے میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن سے بھی مذاکرات کی اپیل کی تھی جس کے جواب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی جو دعوت دی ہے اس اپوزیشن میں قابل ذکر جماعت صرف پی ٹی آئی ہے جس کی کے پی میں حکومت ہے، جہاں اس کی اہم حریف جے یو آئی ہے جو تحریک تحفظ آئین میں شامل نہیں اور جے یو آئی کے سیکریٹری جنرل مولانا غفور حیدری نے ملتان کے جلسے میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی غیر سنجیدہ جماعت ہے جس کا کوئی فرد کوئی مسئلہ سیریس نہیں لیتا اور ہم چاہتے تھے کہ مل کر اپوزیشن کا کردار ادا کریں مگر پی ٹی آئی اپوزیشن اتحاد کے لیے سنجیدگی نہیں دکھا رہی۔

 ایک وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ حکومت کسی پارٹی سے نہیں بلکہ اپوزیشن سے مذاکرات پر آمادہ ہے مگر اپوزیشن متحد نہیں ہے۔ پی ٹی آئی رہنما کا کہنا ہے کہ بانی قید میں صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ابھی تو پی ٹی آئی کے ساتھ کچھ ہوا ہی نہیں اور اس کی قیادت اور پارٹی خود قومی اداروں پر مسلسل حملہ کر رہی ہے جس کے جواب میں حکومتی ایکشن بھی ہوگا جو ابھی نہیں ہوا۔ اگر پیپلز پارٹی ایسا کرتی تو پتا نہیں ہمارا کیا حشر ہوتا۔ پی ٹی آئی کو اپنا انتہا پسندانہ طرز سیاست ختم کر کے جمہوری حدود میں واپس آنا چاہیے جس کے بعد صدر زرداری کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی چیلنجز کا حل مفاہمت اور سیاسی استحکام میں ہے۔

حکومت نے مذاکرات کی پیشکش اپوزیشن کو کی ہے پی ٹی آئی کو نہیں اور نہ ہیحکومت نے اپوزیشن کو کسی ڈیل کی آفر کی ہے کہ سلمان اکرم راجہ خوامخواہ کہہ رہے ہیں کہ بانی کوئی ڈیل قبول نہیں کریں گے۔ حکومت نے جب کسی بھی ڈیل کی آفر کی ہی نہیں تو بانی کے قبول نہ کرنے کی بات کرنا قوم کو دھوکہ دینے اور غلط بیانی کے مترادف ہے اور لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری بھی بانی کی طرف سے بے بنیاد دعوؤں اور غلط بیانی کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے جھوٹوں، بے بنیاد بیانات اور اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے جو بے بنیاد پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے، اس سے ملکی سیاست میں جھوٹ اور سچ کی تمیز ہی ختم ہو گئی ہے اور جھوٹ ملکی سیاست میں سرائیت کرگیا ہے جس کی وجہ سے لوگ موجودہ سیاست سے متنفر ہو رہے ہیں جو پہلے حکومتی بیانات پر یقین نہیں کرتے تھے اب اپوزیشن کے دعوؤں پر بھی یقین نہیں کر رہے۔

 پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ حکومت کے پاس چونکہ اسے دینے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں، اس لیے حکومت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں اور وہ صرف مقتدر حلقوں سے اپنے بانی کی رہائی کے لیے مذاکرات چاہتی ہے جو راضی نہیں اور واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی سے بھی مذاکرات کرنا ہی نہیں چاہتے، اس لیے سیاسی مذاکرات حکومت سے کیے جائیں اور پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کرنا ہی نہیں چاہتی تو مذاکرات کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔حکومت خود بانی کی رہائی کا اختیار ہی نہیں رکھتی اور رہائی کا اختیار صرف عدلیہ کے پاس ہے اور بانی اور ان کی اہلیہ نے موجودہ دی گئی سزائیں چیلنج بھی کر دی ہیں اس لیے عدالتی فیصلوں کا انتظار کیا جانا چاہیے۔ ریاستی اداروں کے خلاف بانی کی ٹرولنگ اور بیرون ملک احتجاج اور دھرنے ان کے معاملات بگاڑ رہے ہیں۔ اس لیے ماحول کی بہتری کے لیے بانی کو خاموشی اختیارکرنا ہوگی، تب ہی حکومت کی طرف سے ڈیل نہیں کچھ ڈھیل ضرور مل سکتی ہے۔

Similar Posts