Hubbleہبل ٹیلی اسکوپ اور جیمز ویب ٹیلی اسکوپ دو انتہائی جدید اور طاقتور مشینیں ہیں جنھوں نے ہمیں بے پناہ قیمتی اہمیت کا ڈیٹا مہیا کیا ہے لیکن یہ دونوں بھی ابھی تک کسی ایسے سیارے کی نشان دہی کرنے سے قاصر رہی ہیں جہاں زندگی کسی نہ کسی فارم میں موجود ہو۔زمین کے بارے میں ایک بہت لمبے عرصے تک یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ تمام کائنات کا مرکزی کرہ ہے۔مشہور فلکیاتی سائنس دان کوپرنیکس سے پہلے یونانی فلاسفرز کی رائے کو صحیح مانا جاتا تھا کہ پورے نظامِ کائنات میں زمین کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور تمام کائنات زمین کے گرد گھوم رہی ہے۔اس نظریے کو جیو سینٹرکGeo centricکہا جاتا ہے۔
کوپرنیکس سے پہلے چند مسلمان سائنس دانوں نے اس رائے سے ہٹ کر یہ رائے دی کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ نویں صدی عیسوی میں ال بلخی،گیارہویں صدی میں ال ہازن اور بعد میں ابنِ الشاطر نے یہی نظریہ دیا کہ سورج ہی وہ ستارہ ہے جس کے گرد سارے سیارے محوِ گردش ہیں۔اس نظریے کو ہیلیو سینٹرک Heleocentricکہتے ہیں۔ مسلمان چونکہ دنیا کی غالب قوت سے محروم ہوتے گئے۔
اس لیے ان کے کام کی پذیرائی نہ ہوئی اور جب یہی بات کوپرنیکس نے کی تو وہ پہلا سائنس دان مانا گیا جس نے ہیلیو سینٹرک نظریہ پیش کیا۔اب یہ بات ٹھوس معلومات کی بنیاد پر انسانی علم میں آ چکی ہے کہ زمین نظامِ شمسی کا ایک سیارہ ہے اور یہ ایک خاص رفتار سے محوِ خرام ہے۔دراصل زمین ساکن نہیں بلکہ مسلسل حرکت میں ہے اور صرف ایک نہیں بلکہ ایک سے زیادہ قسم کی حرکات میں مشغول ہے۔
زمین کی سب سے پہلی حرکت یا گردش اپنے محور Axis کے گرد ہے ۔زمین کا محور ایک خیالی لکیر ہے جو قطبِ شمالی سے قطبِ جنوبی تک جاتی ہے۔زمین اسی محور کے گرد مغرب سے مشرق کی سمت گھومتی ہے۔یہ گردش ہمیشہ اینٹی کلاک وائزAnti Clock wiseہوتی ہے۔ حقیقت میں تمام ہی اجرام ِ فلکی اینٹی کلاک وائز گردش کرتے ہیں۔کعبہ مشرفہ کا طواف بھی اینٹی کلاک وائز ہوتا ہے۔
زمین کی گردش خطِ استوا پر سب سے تیز ہوتی ہے کیونکہ یہاں زمین کو سب سے زیادہ فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے۔ایک دن میں اپنے محور پر گھومتے ہوئے خطِ استوا پرایک چکر پورا کرنے کے لیے زمین کو تقریباً 25ہزار میل کا سفر کرنا ہوتا ہے۔زمین یہ سفر ایک ہزار چالیس میل یا 1670کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے مکمل کرتی ہے۔دونوں قطبوں پر زمین کی محوری گردش بہت ہی کم رفتار سے ہوتی ہے کیونکہ ان قطبوں پر زمین نے اپنے محور پر گردش کرتے ہوئے کوئی خاص فاصلہ طے نہیں کرنا ہوتا۔
زمین اپنے محور پر ایک چکر 23گھنٹے 56 منٹ اور 4.9سیکنڈ میںمکمل کرتی ہے لیکن یہ حساب رکھنا چونکہ بہت ہی مشکل ہے اس لیے اس کو راؤنڈ کر کے 24گھنٹے کر لیا گیا ہے۔ زمین کا ایک چاند ہے جو زمین کے گرد تیرتا رہتا ہے۔چونکہ اس چاند کا حجم خاصا ہے اس لیے یہ زمین پر اثر انداز ہوتا ہے۔چاند کے اثر کی وجہ سے زمین کا محور صحیح عمودی نہیں بلکہ یہ شمال مشرق کی سمت ساڑھے تئیس ڈگری جھکا ہوا ہے۔یہ جھکاؤ ہمیشہ اسی ڈگری پر رہتا ہے اس لیے زمین کا شمالی قطب ہمیشہ قطبی ستارے یعنی پول اسٹار کی جانب ہوتا ہے۔
زمین مکمل طور پر گول نہیں بلکہ اس کا بیرونی حصہ قدرے ابھرا ہوا ہے۔اسی کے ساتھ اس کا اندرونی حصہ)کور اور مینٹل(بھی یکساں نہیں۔زمین ایک تو اپنے محور کے گرد گھومتی ہے،اس کے ساتھ زمین اپنے فلک یعنی مدار میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔زمین محوری گردش کے ساتھ اپنے محور پر لٹو کی مانند Wobbleبھی کر رہی ہے۔Wobblingکی وجہ سے محوری گردش ہمیشہ ہموار نہیں ہوتی۔اس میں بہت ہی ہلکا سا جھول یا لڑکھڑاہٹ پیدا ہوتی رہتی ہے جسے سائنسی زبان میں زمین کی لڑکھڑاہٹ یا Earth wobbleکہا جاتا ہے۔زمین کی لڑکھڑاہٹ کی ایک اہم شکل پری سیشنPrecession کہلاتی ہے جس میں گھومتے ہوئے زمین ایک لٹو کی طرح آہستہ آہستہ دائرے میں حرکت کرتی ہے۔یہ عمل تقریباً 26 سال میں پورا ہوتا ہے۔
پری سیشن کی وجہ سورج اور چاند کی کششِ ثقل ہے جو زمین کے خطَ استوا کے ابھار پر اثر انداز ہوتی ہے۔زمین کے لڑکھڑانے کی دوسری قسم نوٹیشنNutationہے۔یہ پری سیشن کے دوران ہونے والی کمزور سی بے قائدہ حرکات ہوتی ہیں جن میں زمین کی دھری تھوڑا سا آگے پیچھے ہلتی ہے۔یہ تبدیلیاں دراصل زمین کے محور کی ہلکی سی اوپر نیچے جھولتی ہوئی حرکت ہوتی ہے جو بڑے پیمانے پر ہونے والی پری سیشن کے ساتھ وقوع پذیر ہوتی ہے۔
محوری گردش زمین کی سب سے بنیادی اور لازمی حرکت ہے جس کے نتیجے میں دن اور رات کا وجود ممکن ہے۔زمین کا وہ حصہ جو گھومتے ہوئے سورج کے سامنے آتا ہے وہاں دن اور جو سورج کی مخالف سمت میں ہوتا ہے وہاں رات ہوتی ہے۔جو حصہ سورج کے سامنے آنے لگتا ہے وہاں صبح اور پورا دن ڈھلنے کے بعد یہی حصہ جب سورج کے سامنے سے ہٹنے لگتا ہے تو وہاں شام دکھائی دیتی ہے۔زمین مغرب سے مشرق کی طرف گھومتی ہے اس لیے سورج ہمیشہ مشرق سے طلوع ہوتا نظر آتا ہے۔
اگر زمین کی محوری گردش مشرق سے مغرب کی جانب ہوتی تو سورج مغرب سے طلوع ہوتا۔زمین کی اسی گردش کی وجہ سے جو مغرب سے مشرق کی طرف اینٹی کلاک وائز ہوتی ہے سورج،چاند اور ستارے ہمیں آسمان میں مشرق سے مغرب کی طرف حرکت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔اسی محوری گردش کی وجہ سے دنیا میں مختلف مقامات پر مختلف وقت اور ٹائم زونز ہوتے ہیں۔زمین کو 360 درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ہر 15درجے پر ایک گھنٹے کا فرق ہوتا ہے۔ساڑھے23ڈگری جھکاؤ کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں بھی آتی ہیں۔ زمین کا وہ آدھا حصہ جو سورج کی طرف جھکا ہوتا ہے وہاں دن لمبے اور گرم ہوتے ہیں جب کہ وہ حصہ جو سورج کی مخالف سمت میں جھکا ہوتا ہے وہاں دن چھوٹے اور سرد ہوتے ہیں۔
محوری گردش کے ساتھ زمین سورج کے گرد اپنے مدار اپنے orbitمیں بھی گھوم رہی ہے۔زمین اپنے مدار میں گھومتے ہوئے تقریباً 365دن میں ایک چکر مکمل کرتی ہے،مدار میں اس کی رفتار 67ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔سورج اور ہمارا نظامِ شمسی، دودھیا کہکشاںMilky wayکا ایک حصہ ہے۔ سورج اپنے پورے نظام کے ساتھ کہکشاں کے مرکزے کے گرد گردش کر رہا ہے۔اسی طرح ملکی وے بھی کہیں جا رہی ہے۔سورۃ یٰسین میں رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ سورج اور چاند اپنے مستقر کی جانب رواں دواں ہیں اور ان کی یہ تقدیر عزیز و علیم ہستی یعنی اﷲ نے مقرر کی ہے۔
آپ اگر کسی گاڑی پر سوار ہوں اور اس کو یک دم بریک لگ جائے تو آپ اوندھے منہ گاڑی کے اگلے حصے سے ٹکرا جاتے ہیں اور اگر اگلا حصہ کھلا ہو تو آپ گاڑی سے دور باہر جا گرتے ہیں۔اسی طرح سوچیں کہ زمین جو ہمیں اپنے ساتھ لے کر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنے محور کے گرد اور 67ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مدار میں تیر رہی ہے یہ اگر کہیں رک جائے، چاہے ایک سیکنڈ کے لیے ہی رک جائے تو کیا ہو سکتا ہے۔زمین پر رہنے والی تمام مخلوق اچھل کر وسیع کائنات میں کہیں دورجا گرے گی اور فنا سے دوچار ہو جائے گی۔سمندر ابل پڑیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گے۔یہ زمین کی محوری اور مداری گردش ہی ہے جس کے نتیجے میں ہم زمین پر اطمینان سے ہیں اور ہمیں اس کا ادراک ہی نہیں ہوتا کہ ہم محوِ پرواز ہیں۔