پولیس کے مطابق، فائرنگ کرنے والوں میں مقتولہ سمیرہ عزیز کے والد کے قریبی عزیز شامل تھے۔
ان کا چچا اور شوہر قطر سے فون اور ویڈیو کال کے ذریعے قتل کے احکامات دیتے رہے اور سہولت کاری فراہم کرتے رہے۔
سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے اور وسیع پیمانے پر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ مقدمہ سب انسپکٹر آصف اقبال خان کے بیان پر درج کیا گیا۔
متن مقدمہ کے مطابق، مقتولہ سمیرہ عزیز ایک ہفتہ قبل قطر سے اپنے شوہر سلیمان اور چچوں شوکت اور فیصل کے ہمراہ پاکستان آئی تھی۔
شام کے وقت ولید، اسرار اور صابر گھر میں آئے، جہاں انہوں نے کچھ دیر بیٹھ کر مشورہ کیا۔
بعد ازاں مقتولہ کی ہمشیرہ ثناء خان نے بتایا کہ اس دوران قطر سے سلیمان کی ویڈیو کال آئی جس میں چچی سعیدہ کو کہا گیا کہ سمیرہ کو ٹھکانے لگا دو۔
اس کے بعد ولید اور اسرار نے پسٹل نکال کر سمیرہ عزیز پر فائرنگ شروع کر دی۔ گولیاں جسم کے مختلف حصوں میں لگیں اور وہ زخمی ہو کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔
فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے جبکہ مقتولہ کی نعش کو چچا شوکت اور فیصل نے گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے جایا۔
پولیس نے مقدمہ قتل، غیرت کے نام پر قتل اور اعانت جرم کی دفعات کے تحت درج کر لیا ہے، اور ولید، اسرار، صابر کے خلاف چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
مقتولہ کا چچا امتیاز اور شوہر سلیمان بیرون ملک مقیم ہیں۔