خیبر پختونخوا کے ایمرجنسی والے علاقوں کے علاوہ تمام اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے متعلق محفوظ کیا گیا اہم فیصلہ سناتے ہوئے صوبے کے ان تمام اضلاع میں فوراً بلدیاتی الیکشن کرانے کا حکم دے دیا ہے جہاں حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ کے جاری کردہ فیصلے کے مطابق صوبائی حکومت اور انتخابی ونگ کو شیڈول تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، تاہم آئین کے تحت ہنگامی حالت سے متاثرہ 12 قبائلی اضلاع میں فی الحال انتخابات منعقد نہیں ہوں گے۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ جن 23 اضلاع میں حدبندیاں مکمل ہو چکی ہیں، وہاں کسی تاخیر کے بغیر انتخابی عمل شروع کیا جائے جبکہ دیگر علاقوں میں جہاں حدبندی باقی ہے، وہاں فوری طور پر حلقہ بندیوں کا نیا شیڈول جاری کیا جائے۔
فیصلے میں صوبائی حکومت اور انتظامی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی عمل کے انعقاد کے لیے تمام تر ضروری، سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات کی فراہمی یقینی بنائیں۔
الیکشن کمیشن کے حکام نے سماعت کے دوران آگاہ کیا تھا کہ صوبے کے اکثریت اضلاع میں انتخابی معرکے کے لیے بنیادی تیاریاں مکمل ہیں۔
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی اداروں کا نظام رواں برس مقامی حکومتوں کی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد سے غیر فعال اور تاخیر کا شکار ہے۔
صوبے میں پہلے مرحلے کے تحت منتخب ہونے والے بلدیاتی اداروں کی چار سالہ مدت مارچ 2026 میں جبکہ دوسرے مرحلے میں منتخب نمائندوں کی مدت جون 2026 میں ختم ہو گئی تھی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی قوانین میں کی جانے والی بعض ترامیم اور انتظامی مسائل کی وجہ سے حلقہ بندیوں کا عمل متاثر ہوا، جس سے انتخابات کا بروقت انعقاد ممکن نہ ہو سکا۔
حالیہ مہینوں میں صوبے کی سیاسی و انتظامی صورت حال میں اس وقت مزید پیچیدگی پیدا ہوئی جب وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ہنگامی حالت اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کر دیا۔
صوبائی انتظامیہ نے امن و امان کے مسائل، بعض علاقوں میں فوج کی تعیناتی اور ہنگامی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے 12 اضلاع میں انتخابات ملتوی کرنے کی استدعا کی تھی۔
گزشتہ سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے موقف اختیار کیا تھا کہ جہاں تمام قانونی و انتظامی ضروریات اور حلقہ بندیاں مکمل ہیں، وہاں انتخابات روکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، جس کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا جو اب جاری کر دیا گیا ہے۔