رپورٹ کے مطابق آئی جی پی ذوالفقار حمید کی قیادت میں 2025 میں 3 ہزار 277 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران ایک ہزار 300 سے زائد دہشت گرد گرفتار اور پولیس مقابلوں میں 459 دہشت گرد ہلاک ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 43 فیصد اضافہ ہے۔
پولیس کی کارروائیوں کے اعداد وشمار میں بتایا گیا کہ 29 ہائی ویلیو ٹارگٹس کو گرفتار کیا گیا، دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، بارودی مواد، دستی بم اور گولہ بارود برآمد ہوا جبکہ ایک ہزار 762 دہشت گردی کے مقدمات درج ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس پر 536 حملوں کے باوجود فورس کی آپریشنل تیاری کے باعث شہدا کی تعداد 159 تک محدود رہی۔
خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت 18 ہزار سے زائد سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز، 95 ہزار سے زائد اسنیپ چیکنگ پوائنٹس، 3 لاکھ گھروں کی چیکنگ، 30 ہزار سے زائد غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی، بم ڈسپوزل اور K9 یونٹس کی مؤثر کارروائیاں، پولیس انفرا اسٹرکچر کی تعمیر نو، پشاور میگا سیف سٹی پراجیکٹ کی تکمیل کے آخری مراحل، کمیونٹی پولیسنگ، ڈی آر سیز کے ذریعے ہزاروں تنازعات کا حل، عوامی سہولت کے لیے نئی ایپس کا اجرا، ڈرائیونگ اسکولز کی بحالی اور اہلکاروں کی فلاح و بہبود پر ایک ارب 21 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
آئی جی ذوالفقار حمید نے فورس کی شب و روز قربانیوں کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ 2026 میں بھی دہشت گردوں کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی اور خیبر پختونخوا پولیس امن و امان کے قیام کے لیے ہر محاذ پر سرگرم رہے گی۔