پنجاب فوڈ اتھارٹی کے خاتمے کی سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں بے بنیاد قرار

0 minutes, 0 seconds Read
پنجاب فوڈ اتھارٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اپنی بندش سے متعلق خبروں کو افواہوں اور غلط معلومات پر مبنی قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کر دی ہے۔

 فوڈ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق ادارہ نہ صرف بدستور قائم ہے بلکہ بطور ایک خودمختار (اٹانمس) باڈی اپنے تمام قانونی اختیارات کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پرائس کنٹرول اینڈ کموڈٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا نام تبدیل کر کے فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ رکھا گیا ہے، تاہم اس تبدیلی کا پنجاب فوڈ اتھارٹی کے وجود یا اختیارات سے کوئی تعلق نہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی بدستور صوبے میں خوراک کے معیار اور صارفین کی صحت کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے۔

ترجمان کے مطابق 2026 میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نئے عزم اور جامع حکمت عملی کے تحت ملاوٹ مافیا کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرے گی۔ اس مقصد کے لیے رواں سال ڈیری، میٹ اور واٹر سیفٹی کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے آن لائن مانیٹرنگ پورٹلز قائم کر دیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فوڈ سیفٹی اور انسپیکشن سسٹم کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے تاکہ شفافیت اور مؤثریت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ فوڈ سیفٹی ٹیمیں یونیفارم اور باڈی کیمز کے ساتھ فیلڈ میں متحرک رہیں گی جس سے کارروائیوں کا ریکارڈ محفوظ اور شفاف رہے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی قوانین کے مطابق اپنے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے کام کر رہی ہے اور رواں سال غذائی دہشتگردوں اور جعلساز مافیا کو نکیل ڈال کر صوبے سے باہر نکالنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور مستند معلومات کے لیے فوڈ اتھارٹی کے سرکاری ذرائع پر ہی اعتماد کریں۔

Similar Posts