نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انجینئر محمد علی مرزا نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں محل جیسی سہولیات تو حاصل نہیں، تاہم انہیں باہر کی دنیا کی خبروں تک رسائی حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو دو اخبارات فراہم کیے جاتے ہیں جبکہ ان کے کمرے میں ایک ایل ای ڈی بھی لگی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان جیل میں بہت فرسٹریٹڈ دکھائی دیتے ہیں تاہم دو سال تک جیل کاٹنے والے کے لیے فرسٹریشن غیر معمولی بات نہیں۔
انجینئر محمد علی مرزا نے بتایا کہ عمران خان کو رہائش کے لیے مجموعی طور پر چھ چکیاں الاٹ کی گئی تھیں جن میں سے پانچ ان کے ذاتی استعمال میں تھیں جبکہ چھٹی چکی میں ان کا مشقتی رہتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان دن میں دو بار اپنی چکی سے باہر آتے تھے، ایک صبح 9 بجے ناشتہ کرنے کے لیے اور دوسرا 3 بجے دوپہر کا کھانے کھانے کے لیے باہر آتے تھے۔
مذہبی اسکالر کے مطابق عمران خان کا مشقتی دیسی گھی میں تڑکا لگاتا تھا جس کی خوشبو جیل کے دیگر قیدیوں تک بھی پہنچ جاتی تھی۔ انجینئر محمد علی مرزا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جب عمران خان غصے میں آتے تو وہ بہت اونچی آواز میں اور مسلسل بولتے تھے۔
انجینئر محمد علی مرزا کے ان بیانات کے بعد ایک بار پھر اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کی حالت اور سہولیات سے متعلق بحث نے جنم لے لیا۔