امریکا نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں فضائی حملے کیے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ وینزویلا نے کہا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے کی جانے والی ”فوجی جارحیت“ کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی آفیشل نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا نے وینزویلا میں حملے کیے ہیں، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
وینزویلا کی حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حملے ریاست میرینڈا، اراگوا اور لا گوئیرا میں بھی کیے گئے۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر صدر نکولس مادورو نے ملک میں قومی ایمرجنسی نافذ کرنے اور دفاعی افواج کو متحرک کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
کاراکاس میں جمعہ کی رات دو بجے دھماکوں اور طیاروں کی نچلی پروازوں کی آوازیں سنائی دی گئیں۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گردش کرتی ویڈیوز میں امریکی ’چینوک‘ ہیلی کاپٹرز کو شہر کے اوپر پرواز کرتے دیکھا گیا۔
یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں نیوی کی ٹاسک فورس تعینات کرتے ہوئے ینزویلا کے خلاف زمینی حملوں کے امکان کو ظاہر کیا تھا۔
امریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق کاراکاس میں تقریباً رات 2 بجے کم از کم 7 دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، دھماکوں اور پروازوں کی آوازیں پندرہ منٹ تک جاری رہیں۔
رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دھماکوں کے پیچھے کیا وجہ تھی۔ وینزویلا کی حکومت، پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان دھماکوں پر کوئی تبصرہ یا بیان سامنے نہیں آیا۔
دھماکوں کی آواز سن کر مختلف علاقوں میں شہری خوفزدہ ہو کر سڑکوں کی طرف دوڑتے دیکھے گئے۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ دھماکے کاراکاس کے جنوبی علاقے میں فوجی اڈے کے قریب ہوئے، دھماکوں کے بعد بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی اور آدھا شہر تاریکی میں ڈوب گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وینزویلا کی جانب سے متعدد امریکی شہریوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ غیر ملکی میڈیا نے تصدیق کی تھی کہ وینزویلا نے کم از کم پانچ امریکی شہریوں کو تحویل میں لے لیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا تھا کہ حراست میں لیے گئے افراد کی شناخت اور حالات سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ گرفتار امریکی شہریوں کی مکمل چھان بین کے ساتھ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ انہیں کن الزامات کے تحت اور کن حالات میں حراست میں لیا گیا۔
اس کے علاوہ امریکی حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ وینزویلا، امریکا کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی شہریوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
علاوہ ازیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نجی طور پر صدر نکولس مادورو پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔ پیر کے روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ مادورو کے لیے اقتدار چھوڑ دینا دانش مندی ہوگی۔