پرندوں کی ہلاکت، ٹرمپ نے پن چکیاں مضر قرار دے دیں

0 minutes, 0 seconds Read

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ سوشل میڈیا پر پن چکیوں (وِنڈ ٹربائنز) کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ ”شہباز گر رہے ہیں!“ تاہم ان کے دعوے میں دکھائی گئی تصاویر میں اصل پرندہ بالڈ ایگل نہیں بلکہ اسپین کا ریڈ کائٹ تھا۔

ٹرمپ نے اس سے قبل بھی کئی پوسٹوں میں کہا کہ ونڈ ٹربائنز لاکھوں پرندوں کی جان لے رہی ہیں۔ ایک اور پوسٹ میں انہوں نے پرندوں کے جھنڈ کی تصویر شیئر کی اور لکھا، ” کِلنگ برڈز بائی دی ملّینز“ لیکن یہ تصویر دراصل 2006 کی تھی اور تائیوان کی ایک ماحولیاتی تنظیم نے شائع کی تھی۔

حقائق پر نظر ڈالیں تو امریکا میں ونڈ ٹربائنز سے ہونے والی پرندوں کی ہلاکت کا درست ڈیٹا محدود ہے۔ ایم آئی ٹی کلائمٹ پورٹل کی رپورٹس کے مطابق 2013 اور 2014 میں ہر سال ایک لاکھ 40 ہزار سے 6 لاکھ 79 ہزار پرندے ونڈ ٹربائنز سے ہلاک ہو سکتے ہیں۔ تاہم فش اینڈ وائلڈ لائف سروس کے میمو 2009 کی رپورٹ کے مطابق، تیل کی صنعتی علاقے اور فضلے کے ذخائر میں ہر سال 5 لاکھ سے 1ایک ملین پرندے ہلاک ہو جاتے ہیں، جو ونڈ ٹربائنز سے کہیں زیادہ ہے۔

ٹرمپ نے فوکس نیوز ڈیجیٹل کا ایک مضمون بھی شیئر کیا، جس میں بتایا گیا کہ ”اورسٹڈ آن-شور نارتھ امیریکا“ کمپنی کو دو بالڈ ایگلز کی ہلاکت پر 32 ہزار ڈالر جرمانہ ہوا۔ کمپنی نے کہا کہ وہ فش اینڈ وائلڈ لائف سروس کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔

ٹرمپ کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر تازہ ترین طنز بھی سامنے آیا۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے ٹرمپ کو اس وقت ٹرول کیا جب انہوں نے مردہ فالکن کی تصویر شیئر کر کے دعویٰ کیا کہ ”ہمارے خوبصورت بالڈ ایگلز“ ہلاک ہو رہے ہیں۔ نیوزوم کی ٹیم نے ایکس پر لکھا، ”کیا ڈون واقعی نہیں جانتا کہ امریکہ کا پرندہ کیسا دِکھتا ہے؟“

یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے ونڈ ٹربائنز کی مخالفت کی ہو۔ 2012 میں، سکاٹ لینڈ میں اپنے گالف کورس کے قریب ونڈ ٹربائنز کے منصوبے کی مخالفت کی تھی۔

اس سے پہلے بھی رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی کروڑوں ڈالر کی فنڈنگ منسوخ کر کے متعدد آف شور ونڈ پروجیکٹس اور دیگر ماحولیاتی انفراسٹرکچر منصوبوں کو متاثر کیا، جس میں کیلیفورنیا، نیویارک، میساچوسٹس اور میری لینڈ میں ترقی پذیر منصوبے شامل تھے، اور اس سے مقامی روزگار اور توانائی کی منصوبہ بندی پر بھی اثر پڑا۔

ان کی انتظامیہ نے دوبارہ صدارت کے دوران مشرقی ساحل پر چھ آف شور ونڈ پروجیکٹس کے اجازت نامے واپس لینے کی کوشش کی اور دو پروجیکٹس کی تعمیر کو روکا۔ اس کے ساتھ ہی کیلیفورنیا، فلوریڈا اور الاسکا کے ساحلوں پر نئے تیل کے ڈرلنگ منصوبے بھی تجویز کیے گئے۔

ٹرمپ کی توانائی کی ترجیحات ہمیشہ فوسل فیول پر رہی ہیں، اور وہ ونڈ پاور کو اکثر اپنے سیاسی اور اقتصادی مباحثے کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ حقیقت اور تصویر میں فرق کے باوجود، ان کے بیانات ایک بار پھر توانائی کے ماحولیاتی اثرات اور میڈیا میں ہونے والی غلط معلومات کے اہم مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔

Similar Posts