مقامی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق لاشیں ایک دشوار گزار اور گھنے پہاڑی سلسلے کے علاقے سے ملیں جہاں رسائی انتہائی محدود ہے۔ لاشوں پر جدید اسلحہ سے فائرنگ کے نشانات واضح ہیں جو شدید تشدد کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
ابتدائی معائنے سے معلوم ہوا ہے کہ لاشیں چند دن پرانی ہیں اور فائرنگ قریبی فاصلے سے کی گئی ہے، لیویز فورسز اور ریسکیو ٹیموں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے لاشیں برآمد کیں اور انہیں شناخت اور پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال موسیٰ خیل منتقل کر دیا گیا۔
اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ اور دیگر فرانزک طریقوں سے شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور جلد نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور وسیع سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
علاقہ مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے تاکہ ممکنہ ملزمان کے کسی بھی سراغ کو محفوظ کیا جا سکے۔علاقہ مکینوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ لوگوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے اور فوری طور پر ملزمان کو پکڑا جائے۔
تاحال کسی گروپ یا فرد نے ذمہ داری قبول نہیں کی جبکہ پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔