گزشتہ دہائی سے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نموآبادی کی رفتارسے بمشکل ہم آہنگ رہی ہے، جس کے نتیجے میں آمدن جمود کا شکار اور علاقائی ممالک سے فاصلہ بڑھتا گیا ہے۔
اگر استحکام روزگاراورآمدن میں اضافے میں تبدیل نہ ہواتو اصلاحات کیلیے عوامی حمایت کمزور پڑسکتی ہے،اس لیے 2026 کا بڑاچیلنج استحکام سے آگے بڑھ کرتیزاور جامع ترقی کی راہ اپناناہے۔
حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ اس مقصدکیلیے محدودمگر اہم موقع موجودہے۔ عالمی سطح پر تیل سمیت اجناس کی کم قیمتوں نے مہنگائی کو قابومیں رکھاہے،ریکارڈترسیلاتِ زر نے جاری کھاتے کوسہارادیاہے اور اسٹاک مارکیٹ کی مضبوط کارکردگی بہتر سرمایہ کار اعتمادکی عکاس ہے۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ ان سازگار حالات کو پائیدار ترقی میں بدلاجائے،جو معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچے۔
اس مقصدکیلیے چار ترجیحات صنعت اورزراعت کی بحالی،خدماتی شعبے میں حکومتی عمل دخل میں کمی،عالمی معیشت کے ساتھ گہراانضمام اور حکمرانی کے نظام کی اصلاح پر توجہ درکارہے۔
صنعتی ترقی کیلیے ٹیکسٹائل پر انحصارسے نکل کر اعلیٰ قدروالی انجینئرنگ مصنوعات جیسے موبائل فون،دفاعی سازوسامان اور صارفین کی پائیدار اشیاکی تیاری کی جانب جاناہوگا۔
دفاعی پیداوار میں استعدادکے باوجود پاکستان کاعالمی دفاعی برآمدات میں حصہ نہایت کم ہے،حالانکہ جے ایف17 تھنڈر جیسے پلیٹ فارمز میں عالمی دلچسپی نمایاں مواقع کی نشاندہی کرتی ہے۔
اسی طرح موبائل فون اورکنزیومر ڈوریبلز میں درآمدی متبادل سے آگے بڑھ کر برآمدات پر مبنی حکمتِ عملی اپناناہوگی۔ سی پیک فیز ٹوصنعتی اپ گریڈیشن، ٹیکنالوجی منتقلی اور برآمدی نموکیلیے اہم موقع فراہم کرتاہے۔ زراعت کمزور شعبوں میں شامل رہی،جس کی بنیادی وجہ ساختی مسائل ہیں۔
مسابقت کیلیے شعبے کوکھولنا،جدیدبیجوں،ٹیکنالوجی اوروسائل تک رسائی آسان بناناناگزیر ہے۔ روایتی فصلوں پر بھاری سبسڈی اعلیٰ قدروالے شعبوں جیسے باغبانی،دالیں اور تیل دار اجناس کو پیچھے دھکیل رہی ہے،جہاں پاکستان کو بڑے تجارتی خسارے کاسامناہے۔
مویشی پالنا،جوزرعی جی ڈی پی کاتقریباً 60 فیصدہے،خدماتی شعبے خصوصاً ٹیلی کام اور توانائی میں بھی حکومتی بالادستی کارکردگی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے،سرمایہ کاری کوترجیح دینے سے براڈبینڈ، 5G اورتوانائی کی تقسیم میں بہتری آسکتی ہے۔
آئی ایم ایف کی گورننس وکرپشن تشخیصی رپورٹ نے واضح نشاندہی کی ہے کہ کن شعبوں میں اصلاحات درکار ہیں،کمزوریوں پر پالیاجائے تو پانچ برس میں معاشی نموموجودہ رجحانات سے 5 سے 6.5 فیصدتک بڑھ سکتی ہے۔