برطانوی اخبار دی ٹائمز کی انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر ایران میں حکومت مخالف احتجاج اتنا بڑھ گیا کہ سیکیورٹی فورسز مظاہروں سے نمٹنے میں ناکام یا ان کے احکامات ماننے سے انکار کر دیں تو سپریم لیڈر ایران چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای اپنے قریبی حلقے، اہلِ خانہ اور ممکنہ طور پر اپنے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ایران سے روس منتقل ہونے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔
انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ آیت اللہ خامنہ ای بھی ماسکو کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھتے ہیں جیسا کہ سابق شامی صدر بشار الاسد نے کیا تھا۔
روسی حمایت اور سفارتی تعلقات اس انتخاب میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایران میں مہنگائی، کرنسی کی قیمت میں کمی، بے روزگاری، اور امریکی پابندیوں کے باعث عوام پر اضطراب بڑھ رہا ہے، جس نے بڑے پیمانے پر مظاہروں کو جنم دیا ہے۔
خیال رہے کہ ایران کے سیکیورٹی فورسز جیسے پاسداران انقلاب، پولیس اور بیسیج پر مظاہرین کو کچلنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا دباؤ ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں جاری احتجاج کو فسادی قرار دیتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کو سخت ردعمل دینے کی ہدایت کی تھی۔
جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو واضح دھمکی دی کہ اگر سیکیورٹی فورسز مظاہرین کو شدید قوت سے کچلیں گے تو امریکا سخت جواب دے سکتا ہے۔
یہ صورتحال ایران کے اندر مزید عدم استحکام کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے احتجاج کرنے والوں کو حقائق کے باعث ناراض تو تسلیم کیا لیکن ساتھ ہی اعلان کیا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو روکا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس معیشت سنبھالنے یا بحران سے نکلنے کے لیے کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں جس کی وجہ سے حالات مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔