وینزویلا میں امریکی حملے کے بعد بلائے گئے سلامتی کونسل کے اس ہنگامی اجلاس میں امریکا عالمی سطح پر تنہا نظر آیا، جہاں دوست اور دشمن ممالک نے یک زبان ہو کر کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دے دیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر مائیک والٹز نے دفاع کیا کہ وینزویلا یا اس کے عوام سے ہماری کوئی جنگ نہیں ہے، ہم ملک پر قبضہ نہیں کر رہے بلکہ یہ ایک قانونی کارروائی تھی جس کا مقصد نارکو ٹیررزم کے ملزم مادورو اور ان کی اہلیہ کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے۔
امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن امریکی شہریوں کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لیے ناگزیر تھا اور امریکا وینزویلا کے عوام کے لیے امن، آزادی اور خوشحالی چاہتا ہے۔
دوسری طرف یو این سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس کا بیان اجلاس میں پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے امریکی کارروائی کو خطرناک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی۔
اجلاس میں روس، چین، برازیل، کولمبیا، کیوبا اور متعدد دیگر ممالک نے امریکی اقدام کو جارحیت کا جرم قرار دیا جبکہ یورپی اتحادیوں نے بھی نرمی سے مگر واضح طور پر قوانین کی خلاف ورزی پر تنقید کی۔