امریکہ کے 92 سالہ ڈسٹرکٹ جج الوِن ہیلر اسٹائن نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے مقدمے کی سماعت نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ امریکہ میں عمر رسیدہ ججز طویل عرصے تک عدالتی فرائض کیوں انجام دیتے رہتے ہیں۔ جج ہیلر اسٹائن کی عدالت میں موجودگی امریکی عدالتی نظام کے اس ڈھانچے کو اجاگر کرتی ہے جہاں عمر، بذاتِ خود، ججز کے عہدے چھوڑنے کی وجہ نہیں بنتی۔
جج الوِن ہیلر اسٹائن گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے وفاقی عدلیہ سے وابستہ ہیں اور وہ متعدد اہم اور حساس مقدمات کی سماعت کر چکے ہیں۔
ان میں نائن الیون حملوں سے متعلق کیسز، سوڈان میں نسل کشی کے دعوے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جڑے قانونی معاملات شامل ہیں۔ اب وہ حالیہ دہائیوں میں کسی غیر ملکی رہنما کے خلاف ہونے والی اہم ترین قانونی کارروائیوں میں سے ایک کی نگرانی کر رہے ہیں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق جج ہیلر اسٹائن اس سے قبل بھی وینزویلا کے صدر مادورو کے مبینہ قریبی ساتھیوں سے متعلق مقدمات سن چکے ہیں۔ اپریل 2024 میں انہوں نے وینزویلا کی فوج کے ریٹائرڈ جنرل کلیور الکالا کو منشیات اسمگلنگ کے الزامات میں 21 سال سے زائد قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ اسی کیس کے شریک ملزم اور سابق وینزویلا انٹیلی جنس چیف ہیوگو کارواخال کی سزا کا اعلان 23 فروری کو جج ہیلر اسٹائن ہی کریں گے۔
امریکی آئین کے آرٹیکل تھری کے تحت وفاقی ججز، بشمول سپریم کورٹ کے ججوں کو تاحیات تقرری حاصل ہوتی ہے۔ اس نظام کا مقصد عدلیہ کو سیاسی دباؤ سے محفوظ رکھنا اور اس کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔
امریکہ میں ججز کے لیے کوئی لازمی ریٹائرمنٹ کی عمر مقرر نہیں، اور وہ اس وقت تک عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں جب تک وہ خود کو خدمات کے لیے اہل سمجھیں، یا انہیں سنگین بدعنوانی کے تحت مواخذے کے ذریعے نہ ہٹایا جائے۔
امریکی عدالتی نظام میں ججز کا کیریئر کئی دہائیوں پر محیط ہو سکتا ہے۔ حالیہ مطالعات کے مطابق وفاقی ججز کی اوسط عمر تقریباً 69 سال ہے، اور بڑھتی ہوئی اوسط عمر کے باعث تاحیات تقرریاں اکثر 30 سے 40 سال تک جاری رہتی ہیں۔
ایسے ججز جو مکمل ریٹائرمنٹ کے بجائے کام کا بوجھ کم کرنا چاہتے ہیں، وہ 65 سال کی عمر کے بعد کم از کم 15 سال کی سروس مکمل کرنے کی شرط کے ساتھ سینئر اسٹیٹس اختیار کر سکتے ہیں، جس کے تحت وہ مکمل تنخواہ کے ساتھ محدود مقدمات کی سماعت کرتے ہیں۔
امریکہ میں ججز کی ریٹائرمنٹ پر عوامی دباؤ عموماً سپریم کورٹ کی سطح پر دیکھنے میں آتا ہے۔ سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں جج رتھ بیڈر گنزبرگ نے صحت کے مسائل کے باوجود مستعفی ہونے کے مطالبات مسترد کر دیے تھے۔ وہ 2020 میں 87 سال کی عمر میں عہدے پر ہی انتقال کر گئیں تھیں، جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایمی کونی بیریٹ کو سپریم کورٹ جج مقرر کیا، جس سے عدالت میں 3-6 کی قدامت پسند اکثریت قائم ہو گئی۔
اسی تناظر میں گزشتہ برس اگست میں امریکی فیڈرل سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے 98 سالہ جج پولین نیومین کی معطلی میں توسیع کر دی تھی، جب انہوں نے اپنی ذہنی صلاحیت سے متعلق تحقیقات کے دوران نیورولوجیکل ٹیسٹ کروانے سے انکار کیا تھا۔
پولین نیومین، جو اس عدالت کی طویل ترین مدت تک خدمات انجام دینے والی جج اور پیٹنٹ قانون کی ماہر سمجھی جاتی ہیں، نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا تاہم انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔