ڈیلسی روڈریگز نے وینزویلا کی عبوری صدر کا حلف اٹھا لیا

0 minutes, 0 seconds Read

وینزویلا میں غیر معمولی سیاسی صورتحال کے بعد سابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے باضابطہ طور پر ملک کی قیادت سنبھال لی ہے۔ یہ پیش رفت امریکی فوجی کارروائی کے دوران صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورز کی گرفتاری کے بعد سامنے آئی ہے۔ پیر کے روز ڈیلسی روڈریگز نے وینزویلا کی قومی اسمبلی کے سامنے حلف اٹھایا اور بطور صدر اپنے فرائض کا آغاز کیا۔

قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈیلسی روڈریگز نے امریکی فوجی کارروائی کی مخالفت کا اعادہ کیا اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کو اغوا قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ دو ایسے رہنماؤں کی گرفتاری پر گہرے دکھ کے ساتھ سامنے آئی ہیں جنہیں وہ قومی ہیرو قرار دیتی ہیں۔

انہوں نے حلف لیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عوام کے لیے امن، معاشی استحکام اور سماجی سکون کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوشش کریں گی۔

ہفتے کی علی الصبح مادورو کی گرفتاری کے لیے ہونے والی امریکی فوجی کارروائی کے دوران دارالحکومت کاراکس اور اس کے قریبی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، اس کارروائی میں کچھ فوجی اڈوں اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اسی کارروائی کے بعد ڈیلسی روڈریگز نے عبوری طور پر صدارت سنبھالی تھی۔

حلف برداری کی تقریب کی صدارت ان کے بھائی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر جارج روڈریگز نے کی، جبکہ نکولس مادورو کے بیٹے نکولس مادورو گیرا نے آئین کی نقل تھامی۔ اس موقع پر حکومت کے دیگر اہم رہنما بھی موجود تھے، جن میں وزیر داخلہ دیوسدادو کیبیلو اور وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو شامل تھے۔

اسی دوران نکولس مادورو نیویارک کی ایک عدالت میں پیش ہوئے، جہاں ان پر امریکہ میں منشیات اسمگلنگ اور دیگر سنگین الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی۔

امریکی استغاثہ کے مطابق مادورو نے سرکاری اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں ٹن کوکین شمالی امریکہ بھیجنے میں کردار ادا کیا۔

ان الزامات میں منشیات سے متعلق دہشت گردی، کوکین کی درآمد کی سازش اور غیر قانونی ہتھیار رکھنے جیسے الزامات شامل ہیں۔ مادورو اور ان کی اہلیہ نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا ہے۔

عدالت میں مادورو نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اب بھی وینزویلا کے جائز صدر ہیں۔ ان کے حامیوں، جن میں ڈیلسی روڈریگز بھی شامل ہیں، نے ان کی گرفتاری کو بین الاقوامی قوانین اور وینزویلا کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ فی الحال ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے امریکی مطالبات کے مطابق کام نہ کیا تو ان کی صدارت مختصر ہو سکتی ہے۔

ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ڈیلسی روڈریگز نے درست راستہ اختیار نہ کیا تو انہیں مادورو سے بھی زیادہ بڑی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

اس سے ایک دن قبل ٹیلی وژن خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ وینزویلا کو اس وقت تک چلانے کا ارادہ رکھتا ہے جب تک وہاں محفوظ اور مناسب سیاسی منتقلی ممکن نہ ہو جائے۔

واشنگٹن واپسی کے دوران ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت اصل اختیار امریکہ کے پاس ہے اور ان کی انتظامیہ نئے حلف اٹھانے والے حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلسی روڈریگز تعاون کر رہی ہیں، اگرچہ ان کی ذاتی طور پر ان سے بات نہیں ہوئی۔

امریکی حکومت کی جانب سے ایک معروف چاویستا رہنما کے ساتھ کام کرنے کی آمادگی پر بعض حلقوں میں حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ڈیلسی روڈریگز طویل عرصے سے بائیں بازو کی چاویستا تحریک سے وابستہ رہی ہیں، جو آنجہانی ہیوگو شاویز نے شروع کی تھی۔ وہ 2018 سے نائب صدر تھیں اور اس سے قبل وزیر خارجہ سمیت کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔

امریکی ریپبلکن جماعت کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ حقیقت پسندانہ ہے۔ سینیٹر ٹام کاٹن نے کہا کہ امریکا نہ ڈیلسی روڈریگز کو اور نہ ہی نکولس مادورو کو وینزویلا کا جائز حکمران تسلیم کرتا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ طاقت، فوج اور سیکیورٹی اداروں کا کنٹرول انہی کے پاس ہے اور امریکا کو اسی حقیقت کے تحت معاملات چلانے پڑ رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے فی الحال وینزویلا میں فوری انتخابات کے حوالے سے کوئی واضح وعدہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ملک کو سنبھالنا اور معاشی طور پر درست سمت میں لانا ضروری ہے، کیونکہ وینزویلا شدید بدحالی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ملک کو ٹھیک کرے گا اور مناسب وقت پر انتخابات کرائے جائیں گے۔ ان کے مطابق وینزویلا کے تیل کے شعبے کو بھی بحال کرنا ایک اہم ہدف ہے۔

واضح رہے کہ وینزویلا کے حالیہ صدارتی انتخابات پر عالمی سطح پر شدید اعتراضات اٹھتے رہے ہیں۔ 2018 کے انتخابات کے بعد امریکہ نے عارضی طور پر اپوزیشن رہنما خوان گوائیڈو کو صدر تسلیم کیا تھا۔ 2024 کے انتخابات میں بھی مادورو نے کامیابی کا اعلان کیا، مگر نتائج کو شفاف نہیں سمجھا گیا۔

اپوزیشن نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز کامیاب ہوئے ہیں، جس کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ درجنوں ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئیں۔

پیر کو ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں قومی اسمبلی کے وہ 283 ارکان شریک تھے جو گزشتہ سال مئی میں منتخب ہوئے تھے۔ ان میں اپوزیشن کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی، کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

Similar Posts