ڈی جی آئی ایس پی آر نے اہم پریس کانفرنس میں سیکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور کے حوالے سے خیالات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ نیوز کانفرنس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا احاطہ کرنا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بریفنگ کا مقصد گزشتہ سال انسداد دہشت گردی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا جامع جائزہ پیش کرنا ہے، یہ اس پریس کانفرنس کا واحد مقصد ہے، اور میں درخواست کروں گا کہ ہم انسداد دہشت گردی پر توجہ مرکوز رکھیں کیونکہ دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ ہے جس کا اس وقت ریاست پاکستان کو سامنا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2025 دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال تھا، یہ کہتے ہوئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی ہے اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ گزشتہ سال انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بے مثال شدت دیکھی گئی جب کہ گزشت برس ملک میں 27 خود کش حملے ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا، اسے سبق سکھانا ضروری تھا، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی کو اپنے طور پر منظم کیا، دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور وہاں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 75 ہزار 175 اٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کیے، خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشن کیے گئے، ملک کے دیگر علاقوں میں گزشتہ سال میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے۔
گزشتہ برس 27 خود کش حملے ہوئے، کے پی میں 80 فیصد دہشت گردانہ حملے ہوئے، کے پی میں سیاسی طور پر سازگار سیاسی ماحول دہشت گردی کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا 2021 میں دہشتگردی نے سر اٹھانا شروع کیا، 2021 میں 193 دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے، 2021 میں افغانستان میں تبدیلی آئی، دوحہ معاہدہ ہوا، افغان گروپ نے دوحہ میں 3 وعدے کیے، افغان گروپ نے وعدہ کیاکہ افغان سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا، افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغانستان میں عورتوں کی تعلیم یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سال 2025 میں 2597 دہشتگرد مارے گئے، گزشتہ سال سب سے زیادہ دہشت گردی واقعات خیبر پختونخوا میں کیوں ہوئے، خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشتگردی کی وجہ وہاں دہشتگردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ 2 دہائی سے زائدعرصےسےجاری ہے، دہشت گردخوارج اورفتنہ الہندوستان ہیں، دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، افغانستان خطے میں دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ وزیر اعلیٰ فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے ، یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے ، یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں، وزیر اعلیٰ کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، کے پی کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے، کیا خارجی نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے، اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارسدہ میں کیا ہوگا۔
دہشت گرد داعش کا ہو، القاعدہ کا یا ٹی ٹی پی کا۔ سب دہشت گرد ہیں، ان کا کوئی دین ایمان نہیں ہے، ہماری کسی کے لیے کوئی ہمدردی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردوں کی صرف ایک قسم اچھی ہے اور وہ ہے دہشت گردی۔