پاکستانی عوام من حیث القوم چند ایسے ایام بھی مناتے ہیں جو ایک طرف ان کے ملی تشخص کے آئینہ دار ہیں تو دوسری طرف پاکستان کے وجود میں آنے کی یادگار بھی ہیں، اس لیے 14 اگست کو یوم آزادی، 25 دسمبر کو پاکستانی مملکت کے خالق قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش کو بھی اہتمام سے منایا جاتا ہے۔
ان ایام کو منانے کے آداب بھی ہیں، ان کی حدود بھی متعین ہیں اور انھی حدود میں رہ کر یہ ایام منائے جانے چاہئیں، لیکن اب ہم کچھ ایسے ایام کو بھی فوقیت دینے لگے ہیں جو اس کے مستحق نہیں، مثلاً یکم جنوری جو انگریزی سال کا پہلا دن ہے اور نئے سال کو اہتمام کے ساتھ منانے کا دراصل اہل مغرب کا طریقہ تھا، اگر سالوں کی آمد و رفت انسانی زندگی پر اثرانداز ہونے والی کوئی شے ہوتی تو بھی یکم محرم الحرام نئے سال کا دن قرار پاتا۔ مگر تقریباً صد سالہ سے زیادہ غلامی میں گزارے ہوئے دنوں کے طفیل اب ہم یکم جنوری کو جشن کے طور پر مناتے ہیں۔اس کے علاوہ بھی چند ایام منائے جاتے ہیں جومغربی تہذیب کا حصہ ہیں اور ان کا تعلق ہمارے دین سے ہے نہ ہماری روایات سے ہے۔
چلیے یہ بھی بطور بدعت گوارا کر لیں مگر اس جشن کو برپا کرنے کا جو انداز اب اختیار کیا گیا ہے، وہ خالصتاً غیر انسانی، فضول خرچی پر مبنی اور لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث بن گیا ہے اور یہ جشن، جشن نہیں رہا بلکہ سالانہ ’’قومی درد سر‘‘ کا باعث ہے۔
ہوتا یوں ہے کہ 31 دسمبر کو غروب آفتاب کے ساتھ ہی گھر کی عورتوں، بچوں اور بزرگوں کے دل دھڑکنے لگتے ہیں کہ اب بارہ بجتے ہی شہر بھر میں ایک طوفان بدتمیزی برپا ہوگا۔ پٹاخوں کی آوازیں جو کانوں کو پھاڑ ڈالنے والی ہوتی ہیں، دیر تک جاری رہتی ہیں۔ چھوٹے بچے سہم جاتے ہیں، خواتین خوفزدہ ہوتی ہیں اور بوڑھے جان سے بے زار ہونے لگتے ہیں۔ یہ عمل ہر سال پابندی اور پوری ’’ وضع داری‘‘ کے ساتھ دہرایا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ اس سرگرمی کو دوسرے دن نمایاں کر کے شایع کرتے اور نشریاتی ادارے اس کی خبریں شائع کرکے اپنی خبرداری کا اظہار اور دوسروں کو باخبر رکھنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
ہر سال حکومت اس جشن کے بے معنی اور فضول جزو پر قابو پانے کے اقدامات کرتی، انھیں شایع کرکے عوام کو متنبہ بھی کرتی ہے مگر پرنالہ وہیں پر گرتا ہے۔اس سال بھی حسب روایت شہر کے گلی، کوچے، دھماکوں اور فائرنگ سے گونج اٹھے۔ شہریوں کی بڑی تعداد جس میں منچلے نوجوان بھی شامل تھے نئے سال کا جشن منانے کے لیے کراچی کے ساحل سی ویو پر پہنچ گئے۔ رات کے بارہ بجتے ہی منچلے نوجوانوں نے ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا اور ایک دوسرے سے گلے مل کر نئے سال کی مبارکباد دیتے رہے جب کہ پولیس کی جانب سے بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات دیکھنے میں آئے۔ نئے سال کی آمد میں ہی ہوائی فائرنگ، ہلڑ بازی، ون ویلنگ جیسے غیر قانونی اقدامات سے گریزکرنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔ مگر ان ہدایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یہی تمام حرکات زور و شور کے ساتھ جاری رہیں۔
ڈسٹرکٹ سینٹرل نے ہوائی فائرنگ کرنے والوں کا پتا چلانے کے لیے ڈرون کی مدد بھی حاصل کی مگر سب بے سود رہا۔ گھنٹہ بھرکے قریب جاری رہنے والی فائرنگ کے نتیجے میں نامعلوم سمت سے آ کر لگنے والی گولیوں سے 23 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، مگرگولی نامعلوم سمت سے آئی اس لیے اس کا چلانے والا بھی نامعلوم ہی رہا۔
یہ ہر سال کا معمول ہے۔ 2 جنوری کے اخبارات گولیوں کے زخم خوردہ افراد کی تعداد بتاتے ہیں، ظاہر ہے کہ اس جرم کے مجرم لاپتا ہوتے ہیں اور لاپتا مجرم کا پتہ چلانا اور اسے گرفتار کرنا حکومت کی ذمے داری ہوتی ہے، اس لیے ان زخمیوں کے علاج معالجے کے اخراجات حکومت کے ذمے ہونا چاہئیں مگر کوئی نہیں پوچھتا ، ان بے چاروں کا پرسان حال کوئی نہیں ہوتا۔
البتہ اس بار ایک خوش آیند خبر آئی ہے کہ اس بار گولی باری اور ممنوعہ قسم کے پٹاخوں کی گھن گرج کے دوران ناظم آباد پولیس نے چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 4 نائن ایم ایم پستول، لوڈڈ میگزین اور گولیاں برآمد کر لی ہیں۔ ان ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
توقع ہے کہ آیندہ اس سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ ہو سکے تاکہ اس ’’ بے ہودہ‘‘ انداز حسرت پر قابو پایا جاسکے۔ تہوار یا خوشی منانے کا طریقہ ہنگامہ آرائی یا بے ہودگی نہیں ہوتی۔