امریکی کوسٹ گارڈ اور فوج نے بدھ کے روز آئس لینڈ کے قریب روسی پرچم والے تیل بردار جہاز کو پکڑ لیا، جو دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک امریکی اہلکاروں کے تعاقب میں تھا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام وینزویلا کی تیل برآمدات پر امریکی پابندیوں کے نفاذ کے سلسلے میں کیا گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے (رائٹرز) کے مطابق جہاز، جس کا نام اب میرینیرا ہے اور پہلے بیلا-1 کے نام سے جانا جاتا تھا، نے کیریبین میں امریکی سمندری بلاک کے دوران بار بار بچ نکلنے کی کوشش کی اور امریکی کوسٹ گارڈ کی سوار ہونے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔
امریکی یورپی کمانڈ نے تصدیق کی کہ جہاز کو امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی پر قبضہ میں لیا گیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے کہا کہ پابندیوں والے اور غیر قانونی وینزویلا کے تیل پر پابندی کا عمل دنیا کے کسی بھی حصے میں مکمل طور پر جاری ہے۔
حکام نے بتایا کہ روسی فوجی بحری جہاز، بشمول ایک آبدوز، کارروائی کے علاقے میں موجود تھے، تاہم کوئی براہِ راست تصادم نہیں ہوا۔ ماسکو کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واجح رہے کہ یہ کارروائی اس واقعے کے چند روز بعد عمل میں آئی جب امریکی خصوصی فورسز نے کاراکاس میں وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو گرفتار کیا، جن پر منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات عائد ہیں۔
ذرائع کے مطابق، پکڑا گیا جہاز اب ممکنہ طور پر برطانوی علاقائی پانیوں کی جانب جا رہا ہے۔ تاہم جہاز میرینیرا پر تیل موجود نہیں تھا۔ ایک علیحدہ کارروائی میں بھی امریکی کوسٹ گارڈ نے ایک اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والے ٹینکر M/T Sophia کو پکڑا۔ پاناما پرچم والا یہ جہاز بھی پابندیوں کی زد میں تھا اور اسے امریکی حدود تک منتقل کیا گیا ہے۔
یہ دونوں کارروائیاں امریکی حکومت کی وینزویلا کے تیل پر دباؤ کی مہم کا حصہ ہیں، جس میں امریکی بندرگاہوں پر 20 ارب ڈالر کے تیل کے ممکنہ امپورٹ کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
رائٹرز کے مطابق یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت امریکہ خطے میں تیل کی ترسیل پر کنٹرول بڑھانا چاہتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر بھی زور دے رہی ہے جس کے ذریعے چین کی جانب جانے والا تیل امریکا منتقل کیا جا سکے، جس پر چین نے امریکی اقدامات کو دباؤ اور دھونس قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے وینزویلا کی توانائی کی صنعت میں امریکی رسائی بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور اس کے عدم اطلاق کی صورت میں مزید اقدامات کی دھمکی بھی دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا اور روسی جہاز اکثر شیڈو فلیٹ کے ذریعے امریکی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم یہ جہاز اب بھی امریکی کارروائی کے خطرے سے دوچار ہیں۔