بدھ کو امریکی کوسٹ گارڈ اور فوج کی جانب سے آئس لینڈ کے قریب روسی پرچم والے تیل بردار جہاز کو قبضے میں لینے پر روس نے ردِ عمل ظاہر کیا اور کہا کہ اٹلانٹک میں روسی آئل ٹینکر میری نیرا پر امریکی قبضہ بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ روس نے اس کارروائی کو ”بحری قزاقی“ قرار دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے (رائٹرز) کے مطابق روس کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے آئس لینڈ کے قریب جہاز پر سوار ہونے کے بعد میری نیرا سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
روس کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون کے تحت ہر جہاز کو آزادانہ سفر کا حق حاصل ہے اور کسی ملک کو دوسرے ملک کے رجسٹرڈ جہاز پر طاقت استعمال کرنے کا حق نہیں۔
نائب چیئرمین ڈیفینس کمیٹی الیکسی زورالوو نے کہا کہ آئل ٹینکر پکڑنے پر امریکا کو جنگی جواب ملنا چاہئے، ہمیں ایک دو امریکی جہاز ڈبونے پڑیں گے، ہمارے جہاز پکڑنا بحری قزاقی ہے، امریکی جہازوں پر تارپیڈو سے حملے کریں، امریکا کا نشہ ختم کرنے کیلئے اسے تھپڑ لگانا ضروری ہے۔
روس نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روسی عملے کے ساتھ انسانی سلوک کرے اور انہیں جلد از جلد وطن واپس بھیجے، روسی خبر رساں ایجنسی (ٹاس) کے مطابق۔ مارینیرا، جو پہلے بیلا-1 کے نام سے جانی جاتی تھی، قبل ازیں کیریبین میں امریکی سمندری بلاک سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو چکی تھی۔
یہ قبضہ امریکی دباؤ کی مہم کا حصہ ہے، جس کا نقطہ عروج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 3 جنوری کو وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو گرفتار کر کے نیویارک میں منشیات کے مقدمات میں پیش کرنے کی کارروائی تھا۔ مادورو نے الزامات کی تردید کی ہے۔
روس کے حکومتی قانون ساز آندرے کلِشاس نے ٹیلیگرام پر کہا کہ وینزویلا میں کئی درجن افراد کی ہلاکت کے بعد امریکی قانون نافذ کرنے کی کارروائی کے بعد امریکا نے آزاد سمندروں میں خالص سمندری قزاقی کا مظاہرہ کیا ہے۔
دو امریکی حکام نے، نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ بدھ کی کارروائی امریکی کوسٹ گارڈ اور فوج نے کی۔ انہوں نے کہا کہ روسی فوجی جہاز، بشمول ایک آبدوز، علاقے میں موجود تھے، تاہم کسی براہِ راست تصادم کے آثار نہیں پائے گئے۔
روس اور امریکا کے تعلقات فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سب سے کشیدہ ہو گئے تھے، حالانکہ ٹرمپ کی دوسری مدت میں تعلقات میں کچھ بہتری آئی تھی جب انہوں نے صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ بات چیت شروع کی۔
روس نے کہا کہ وہ نئے عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کی حمایت کرے گا اور وینزویلا کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔