غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں: اسرائیلی فوج کے حملوں میں 4 فلسطینی شہید

0 minutes, 0 seconds Read

اسرائیلی فوج کی غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جہاں صیہونی فوج کے 2 الگ الگ حملوں میں کم از کم 4 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، یہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اسرائیلی فوج نے ایک ناکام راکٹ لانچ کے مقام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے جنگ بندی مزید خطرے میں پڑ گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کے روز جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مغربی علاقے میں ایک خیمے پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم تین فلسطینی شہید اور تین افراد زخمی ہو گئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ ایک اور حملہ خان یونس کے مشرقی علاقے میں کیا گیا، جہاں اسرائیلی فورسز کی موجودگی کے قریب ایک شخص جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

ان ہلاکتوں پر اسرائیلی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے ایک ایسے راکٹ لانچ سائٹ کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے فائر کیا گیا راکٹ اسرائیلی حدود تک پہنچنے میں ناکام رہا۔

اسرائیلی فوج نے الزام عائد کیا کہ حماس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے جب کہ فلسطینی تنظیم کے ایک ذریعے نے کہا کہ وہ ان الزامات کی جانچ کر رہے ہیں۔

اکتوبر میں طے پانے والی جنگ بندی پہلے مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکی، جس کے تحت بڑے پیمانے پر لڑائی رکی، اسرائیل نے غزہ کے کچھ علاقوں سے انخلا کیا اور حماس نے قیدیوں کے بدلے اسرائیلی یرغمالیوں اور لاشیں حوالے کیں۔ آئندہ مراحل میں حماس کے غیر مسلح ہونے، اسرائیلی افواج کے مزید انخلا اور غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ شامل ہے، تاہم ان اقدامات پر تاحال پیش رفت نہیں ہو سکی۔

رپورٹ کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد اب تک 400 سے زائد فلسطینی اور 3 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ کی تقریباً پوری آبادی عارضی پناہ گاہوں یا تباہ شدہ عمارتوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر نہیں بڑھے گا جب تک غزہ میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات واپس نہیں کی جاتیں۔ اسی شرط کے تحت رفح کراسنگ کھولنے سے بھی انکار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب حماس کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر سے اب تک اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی 1100 سے زائد خلاف ورزیاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جن میں ہلاکتیں، زخمی، فضائی و توپ خانے کے حملے، گھروں کی مسماری اور گرفتاریاں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1200 افراد ہلاک اور 251 کو اغوا کیا گیا تھا جب کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 71 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

Similar Posts