برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں خبردار کیا ہے کہ ایران غیر ملکی طاقتوں کے لیے کام کرنے والے عناصر کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعے کے روز قوم سے ٹیلی وژن خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین سرکاری املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے یہ انتشار پھیلایا جا رہا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ کچھ عناصر سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، انھوں نے خبردار کیا کہ تہران غیر ملکی طاقتوں کے لیے سرگرم آلہ کاروں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
قوم سے خطاب میں رہبرِ اعلیٰ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران لاکھوں معزز شہریوں کی قربانیوں سے قائم ہوا ہے اور یہ نظام تخریب کاروں کے سامنے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا۔
دوسری جانب ایران میں بڑھتے ہوئے احتجاج کے باعث حکام نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ایران بڑی حد تک بیرونی دنیا سے کٹ گیا ہے۔ بیرونِ ملک سے فون کالز نہیں مل رہیں، متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور ایرانی آن لائن نیوز ویب سائٹس صرف وقفے وقفے سے اپ ڈیٹ ہو رہی ہیں۔
یہ احتجاج مہنگائی اور شدید معاشی بحران کے خلاف شروع ہوا تھا۔ اگرچہ یہ تین سال قبل ہونے والی ملک گیر بدامنی کے مقابلے میں کم شدت رکھتا ہے، تاہم یہ ایران کے مختلف حصوں میں پھیل چکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے ساتھ گزشتہ سال کی جنگ کے بعد کمزور معیشت اور بڑھتے عالمی دباؤ نے حکومت کو زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاؤ کے مطابق صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر زاہدان میں جمعہ کی نماز کے بعد نکلنے والے احتجاجی جلوس پر فائرنگ کی گئی، جس سے کئی افراد زخمی ہوئے۔
ایران کی بیرونِ ملک اپوزیشن جماعتوں نے مزید احتجاج کی اپیل کی ہے۔ سابق شاہ ایران کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر ایرانی عوام سے کہا کہ دنیا کی نظریں ان پر ہیں اور وہ سڑکوں پر نکل آئیں۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے گزشتہ موسمِ گرما میں ایران پر بمباری کی تھی اور حال ہی میں مظاہرین کی مدد کا عندیہ دیا تھا، انھوں نے جمعے کو کہا کہ وہ رضا پہلوی سے ملاقات نہیں کریں گے اور نہ ہی انہیں یقین ہے کہ ان کی حمایت مناسب ہو گی۔
ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے رات گئے مناظر نشر کیے جن میں جلتی ہوئی بسیں، گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، میٹرو اسٹیشنز اور بینک دکھائے گئے۔ سرکاری میڈیا نے ان واقعات کا الزام پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن (ایم کے او) پر عائد کیا، جو 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد وجود میں آنے والی ایک اپوزیشن جماعت ہے۔
بحیرۂ کیسپین کے ساحلی شہر رشت میں شارعِ شریعتی پر موجود سرکاری ٹی وی کے ایک رپورٹر نے کہا کہ علاقہ جنگی میدان کا منظر پیش کر رہا ہے اور بیشتر دکانیں تباہ ہو چکی ہیں۔ رائٹرز کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں دارالحکومت تہران میں سیکڑوں افراد کو مارچ کرتے دیکھا گیا، جب کہ ایک ویڈیو میں ایک خاتون کو خامنہ ای مردہ باد کا نعرہ لگاتے بھی سنا گیا۔
ایران اس سے قبل بھی بڑے احتجاج کو کچل چکا ہے، تاہم اس وقت ملک کو شدید معاشی بحران اور عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔ متنازع جوہری پروگرام پر عالمی پابندیاں ستمبر سے دوبارہ نافذ ہو چکی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ معاشی مسائل پر احتجاج جائز ہے، تاہم پرتشدد مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کے مطابق مظاہرین کی آواز سنی جانی چاہیے، لیکن غیر ملکی نیٹ ورکس سے جڑے عناصر کے ساتھ مختلف سلوک کیا جائے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انٹرنیٹ کی بندش سے بیرونِ ملک سے ایران فون کال ملانا ممکن نہیں رہا، جب کہ دبئی ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق دبئی اور ایران کے مختلف شہروں کے درمیان کم از کم چھ پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔