محمود خان اچکزئی نے لاہور ہائی کورٹ کراچی شہدا ہال میں پی ٹی آئی ویمن ونگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جو حالات ہیں کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہماری خواتین آزاد ہیں، مردوں میں آج بھی تاثر ہے کہ عورت کی عقل کم ہے، صرف دوپٹہ پہنانا اور بازاروں میں جانے سے عورت کے حقوق سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ خدا نے عورت کو اس کی حیثیت دی ہے کہ جنت ماں کے قدموں میں ہے لیکن آج بلوچ سردار، پنجابی چوہدری، سندھی وڈیرے اور پشتون عورت کو اس کا حق نہیں دیتے، عورت اپنے باپ کے حکم پر ہر طرح کے مرد کے ساتھ گزارا کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو عوم کے حق پر ڈاکا مارا گیا، یہاں ظالموں کو پالا جاتا ہے، یہ جھوٹ ہے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے، قلعہ ایسے ہوسکتا ہے کہ اسلام اس قلعے میں قید ہو، اس نظام کو ہم نے منظم ہو کر نکالنا ہے کیونکہ مظلوموں کی تعداد کروڑوں میں ہے جبکہ ظالم لاکھوں میں ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج تک کسی جرنیل، جج یا سیاست دان کو آئین کی خلاف ورزی پر سزا نہیں ہوئی۔
احتجاج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ سوشل میڈیا پر اپنے رہنماؤں سے نالاں ہیں، آج سے مہم شروع کریں کہ ایک دن اپنی دکان بند کریں، 8 فروری کو سڑکوں پر نکلیں اور بھنگڑیں ڈالیں، پشتون بھی نکلیں اور سڑکوں پر بھنگڑے ڈالیں۔