ایکسپریس نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سہیل آفریدی گزشتہ رات حیدرآباد سے کراچی کے لیے روانہ ہوئے تھے، انہیں کراچی میں آج شام 4 بجے باغ جناح میں ایک جلسے سے خطاب کرنا تھا۔
مگر انتظامیہ کی جانب سے باغ جناح میں رات گئے اچانک آپریشن شروع کر دیا گیا اور وہاں جلسہ گاہ کی تیاریوں میں مصروف پی ٹی آئی کے کارکنوں کو منتشر کر دیا، ذرائع کے مطابق متعدد کارکنوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔
اس کے علاوہ سپر ہائی وے کے دونوں ٹریکس کو بھی نجی سوسائٹی کے قریب سے رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا جس کے باعث حیدرآباد جانے اور آنے والی دونوں لائن میں شدید ٹریفک جام ہو گیا۔
انتظامیہ کی کوشش ہے کہ کے پی وزیر اعلیٰ حیدرآباد سے کراچی نہ پہنچ پائیں، جبکہ دوسری جانب سہیل آفریدی کو ٹریفک جام میں پھنس چکے تھے اپنے قافلے کے ہمراہ ٹھٹھہ کی جانب روانہ ہوئے تاکہ نیشنل ہائی وے کے ذریعے کراچی پہنچ پائیں، لیکن انہیں وہاں بھی تین مقامات پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے پر اس وقت بدترین ٹریفک جام ہے، جبکہ ایک ویڈیو میں ابھی صبح 6 بجے کے قریب سہیل آفریدی کو اپنے قافلے کے ہمراہ ایک رکاوٹ کو دور کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
کے پی وزیر اعلیٰ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں سندھ حکومت اور انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے کہا کہ حیدرآباد سے واپسی پر میرے اور میری ٹیم کے تمام راستے بند کردیے گئے ہیں، پچھلے 4 گھنٹوں سے مختلف راستے تبدیل کر چکا ہوں، ابھی 4 بجکر 23 منٹ پر سنسان سڑک آ کر کراچی کی طرف روانہ ہو چکے ہیں، سندھ حکومت میرے ساتھ ساتھ میری ٹیم کی زندگی کے ساتھ بھی کھیل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو روایات ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ دوسرے صوبے میں بنائی جا رہی ہے یہ مستقبل قریب میں نقصان دہ ہو گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہم سب کا ہے اس میں نفرتوں کا اتنا مت پھیلائیں جس سے پھر واپسی ممکن نہ ہو، جعلی جمہوری قوتیں اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے یہ انتہائی شرمناک ہے۔