امریکی وزیرِ تجارت نے یہ بھی انکشاف کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے درمیان براہِ راست رابطہ نہیں ہو سکا، کیونکہ مودی دباؤ اور گھبراہٹ کا شکار تھے اور انہوں نے فون کرنے سے گریز کیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے بھارت کے بجائے انڈونیشیا، فلپائن اور ویتنام کے ساتھ تجارتی معاہدے طے کر لیے ہیں، جسے ماہرین بھارت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دے رہے ہیں۔
بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ ماضی میں بھارت کی معیشت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “کمزور” قرار دے چکے ہیں۔ اسی تناظر میں معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے 500 فیصد تک ممکنہ ٹیرف بھارتی معیشت کے لیے شدید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ناکام سفارت کاری اور غیر مؤثر خارجہ پالیسی کا براہِ راست بوجھ بھارتی عوام پر پڑ رہا ہے، جبکہ مہنگائی، بے روزگاری اور تجارتی دباؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔