مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان سے راقم کی شکارپور اور لاہور میں ملاقاتوں کے علاوہ ان کے آبائی شہر خانگڑھ ضلع مظفر گڑھ میں ان کی رہائش گاہ پر تفصیلی ملاقات ہوئی تھی جہاں راقم کے کزن چوہدری لیاقت علی لے گئے تھے جو نوابزادہ صاحب کے بہت قریب تھے اور نوابزادہ فیملی ان کی غمی و خوشی میں شریک ہوا کرتی تھی اور یہ تعلق اب سیاسی بھی ہو چکا ہے۔
اس وقت نوابزادہ نے سندھ میں (ن) لیگی حکومت میں ہونے والی کرپشن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب ملک کی سیاست میں کرپشن، اقربا پروری، سیاسی تلخیاں بڑھتی جا رہی ہیں جب کہ سیاست مفاد پرستی کے لیے نہیں ہوتی بلکہ ملک کی خدمت کے لیے ہونی چاہیے اور ہم نے ملک میں سیاست عبادت سمجھ کر کی ہے اور ایک دوسرے کی عزت و احترام برقرار اور رواداری کو فروغ دیا ہے اور سیاست میں کبھی دشمنی نہیں ہونی چاہیے بلکہ سیاسی اختلافات ایک حد میں رہ کر دوسرے کی عزت کے ساتھ کرنی چاہیے اور برداشت کا مظاہرہ ضروری ہے۔
اس وقت نوابزادہ نصراللہ کے متعلق مشہور تھا کہ انھوں نے اپنی زمینیں فروخت کرکے سیاست کی جس سے ان کی مالی حالت کمزور ہوئی ورنہ وہ بھی بے نظیر حکومت میں مفادات حاصل کر سکتے تھے، البتہ انھوں نے اہلیت کی بنیاد پر اپنے علاقے کے نوجوانوں کو ملازمتیں ضرور دلوائیں۔ نوابزادہ سے سیاسی اختلاف رکھنے والے بھی نوابزادہ کا احترام کرتے تھے اور حکومتوں سے اختلاف رکھنے والی پارٹیوں کے سربراہوں کو آپس میں بیٹھ کر یا سیاسی اتحاد کے لیے جمع کرکے نوابزادہ کی سربراہی میں سیاسی اتحاد بھی بنے تھے۔
آج ملک میں تین بار وزیر اعظم اور دو دو بار ملک کا صدر اور وزیر اعظم تو موجود ہیں مگر ان میں کوئی ایک بھی قدآور سیاسی شخصیت موجود نہیں حکومت سے باہر قومی رہنما کی حیثیت کے حامل مولانا فضل الرحمن ضرور موجود ہیں جنھوں نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف ایک سیاسی اتحاد پی ڈی ایم بنوا کر اپنی سربراہی میں تحریک اعتماد کامیاب کرائی تھی۔ پی ڈی ایم حکومت کی دو بڑی پارٹیاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی16 ماہ تک پی ڈی ایم حکومت میں شامل رہیں مگر جیسے ہی نگراں حکومت بنی پی پی کے چیئرمین نے مسلم لیگ (ن) سے آنکھیں پھیر کر اپنی انتخابی مہم شروع کی تھی اور انتخابی نتائج کے فوری بعد دونوں بڑی پارٹیوں نے اپنے سیاسی مفاد کے لیے حکومتی اتحاد بنایا اور مولانا فضل الرحمن کو پوچھا تک نہیں جس کی وجہ سے مولانا حکومت سے ناراض ہو کر اپنی پارٹی کی طرف سے اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں اور حکومت پر کڑی تنقید کرکے سیاست کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی حکومت کو ہٹوانے کے لیے دونوں بڑی پارٹیوں نے مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں تحریک عدم اعتماد کامیاب کرائی تھی اور دونوں پارٹیاں مولانا کے قریب تھیں۔ اصولی طور پر انتخابات کے بعد دونوں پارٹیوں کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے مولانا کو بھی دیگر چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ لے کر چلنا چاہیے تھا مگر پیپلز پارٹی نے ایسے نہیں ہونے دیا اور بلوچستان میں اپنی حکومت بنانے کے لیے جے یو آئی ف کو نظرانداز کیا جب کہ بلوچستان میں جے یو آئی کے ووٹ بھی تقریباً دونوں پارٹیوں جیسے تھے۔
سیاسی پارٹیوں کی سیاسی اور ان کے سربراہوں کی مالی مفاد پرستی ہر دور میں رہی ہے اور سب نے ہی اپنے اپنے مفادات کو ہمیشہ ترجیح دی اور حکومتیں بنائیں جب کہ ہر پارٹی کے نظریات اور منشور مختلف تھے مگر جب بھی سیاسی مفادات اور حکومتی تشکیل میں ایک دوسرے کی ضرورت پڑی و باہمی اختلافات چھوڑ کر متحد ہوئیں۔
موجودہ حکومت کی تشکیل کے وقت اور پہلے بھی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے مولانا فضل الرحمن اور چوہدری شجاعت سے ذاتی تعلقات بھی رہے اور سیاسی اختلاف بھی رہا کیونکہ (ق) لیگ پی ٹی آئی کی اتحادی تھی جب کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی مخالفت میں صدر زرداری نے اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے (ق) لیگ اور ایم کیو ایم کو ساتھ ملا لیا تھا مگر 2006 میں پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے جنرل پرویز مشرف کی وجہ سے لندن میں میثاق جمہوریت اس لیے کیا تھا کہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو جلا وطن تھے اور جنرل پرویز دونوں کی واپسی کے خلاف تھے اس لیے دونوں نے مجبور ہو کر اپنے سیاسی مفاد کے لیے یہ معاہدہ کیا تھا جس کے بعد سے دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے کی حکومتوں کی شدید مخالفت نہیں کی جب کہ دونوں 1999 تک ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتی تھیں۔
ملک کی صورت حال میں اپوزیشن ملک میں میثاق جمہوریت اور حکومتی پارٹیاں میثاق معیشت چاہتی ہیں کیونکہ دونوں اسی میں اپنا سیاسی مفاد سمجھتی ہیں۔ اپوزیشن کو حصول اقتدار کی اور حکومت کو معاشی بہتری کے ذریعے اپنا اقتدار برقرار رہنے کی ملک سے زیادہ فکر ہے۔ آج کل کی سیاست میں اپنے ذاتی اور مالی مفادات کی ہر سیاستدان کو فکر ملکی مفاد سے زیادہ ہے کیونکہ سیاست کے ذریعے ہی اقتدار میں آ کر وزارتیں اور حکومتی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں جب کہ مالی مفاد اتنا عزیز ہے کہ کے پی کی پی ٹی آئی حکومت میں اس کے ارکان اسمبلی اپنی پارٹی کو ماہانہ پچاس ہزار روپے دینے کو تیار نہیں جب کہ پارٹی کو ان کی مالی مدد کی ضرورت ہے مگر پارٹی پر مالی مفاد پہلی ترجیح بن چکا ہے۔