امریکا نے وینزویلا پر حملہ کرنے کی جو وجہ بتائی ہے وہ کوئی بھی شیر اپنے شکار پر حملہ کرتے وقت برت سکتا ہے بلکہ بتاتا ہے۔ طاقتور کمزورکو تابع بنانے کے لیے، اسے غلامی کو قابل قبول بنانے کے الزام کا خود تعین کرتا ہے۔ چنانچہ امریکا کا الزام بھی خودساختہ الزام ہی تھا جو حملے کے جوازکے طور پر پیش کیا گیا مگر یہ اتنا بھونڈا الزام ہے جو کسی کھلے ذہن و دماغ کے حلقے سے اترتا نظر نہیں آتا۔
اس کارروائی میں جو نصف شب کے وقت انجام دی گئی، امریکا کے درجنوں ہوائی جہازوں اور پانی کے جہاز نے بھی حصہ لیا۔ وینزویلا کے صدرکوگرفتار کرکے امریکی نیوی کے مسلح اور مستعد جہاز کے ذریعے امریکا منتقل کر دیا گیا جہاں نیویارک میں ان پر مقدمہ چلے گا۔
وینزویلا کے صدر کی جو تصاویر جاری کی گئی ہیں گرفتاری کے بعد ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے اور وہ ایک مجرم کے طور پر گرفتار کرکے اپنے وطن سے دور لے جائے جا رہے ہیں۔ دوسرے دن ان کو نیویارک کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ پابجولاں تھے یعنی ان کے پاؤں میں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں۔ امریکی یہ کارروائی صدر ٹرمپ کی براہ راست نگرانی میں عمل میں آئی، وہ اپنی آرام گاہ میں ٹیلی وژن پر اس گرفتاری کی کارروائی دیکھتے رہے۔ عدالت میں پیش ہونے کے بعد کارروائی اگلی تاریخ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
وینزویلا کے خلاف امریکا کی یہ کارروائی بالکل اسی طرح کی ہے، جس طرح کوئی شیر بلی کو کھانے کے لیے اختیارکرتا ہے، چنانچہ دنیا بھر میں اس کے خلاف شدید رد عمل کا اظہارکیا گیا ہے۔ روس، چین، پاکستان اور متعدد ممالک میں اس عمل کے خلاف رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔ چین نے اپنے اسٹرٹیجک مذاکرات کے ساتویں اجلاس میں معمول کی کارروائی کے علاوہ امریکی اقدام پر اپنے غیر معمولی رد عمل کا اظہارکیا اور اسے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا بلکہ ’’ننگی جارحیت‘‘ کہہ کر اسے اپنی شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
اخباری اطلاعات کے مطابق وینزویلا کے صدر کو گرفتاری کے بعد امریکی جنگی جہاز پر منتقل کیا گیا۔ بعدہ گوانتانامہ کے قید خانے میں عارضی طور پر منتقل کیا گیا۔ یہ وہی بدنام زمانہ قید خانہ ہے جس میں امریکا اپنے مخالفین کو قید و بند میں رکھتا رہا ہے۔ 63 سالہ مادورو کو امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کے دفتر لے جایا گیا جہاں سے ان کو بروکلین میں واقع میٹرو پولیٹن مزاحمتی مرکز میں منتقل کیا گیا۔ اس صورت حال کے باعث وینز ویلا کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔
ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی آئل کمپنیوں نے جتنی سرمایہ کاری وینزویلا میں کی اتنی کہیں اور نہیں کی تھی (گویا یہ بھی امریکا کا وینزویلا پر احسان تھا)۔ یوں امریکی ڈالر برباد کیے گئے، جن سے وینزویلا میں انفرا اسٹرکچر قائم کیے گئے۔ اس لیے جب تک امریکا مطالبات اور اہداف پورے نہیں ہوتے امریکی فوجی دستے اس ملک میں رہیں گے۔
بلی اس طرح تھیلے سے باہر آگئی۔ امریکی اقدام کا اصل مقصد دراصل وینزویلا پر تسلط قائم کرکے اس کی تیل کی دولت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا مقصود تھا اور اس کے لیے اس نے صدر وینزویلا پر منشیات کی سرپرستی کا الزام عائد کرکے ملک پر ہی اپنی اجارہ داری مستحکم کر لی۔
صدر ٹرمپ نے امریکا اور اسرائیل کو اپنے ہی ملک پر فوجی حملے کی دعوت دینے والی اپوزیشن لیڈر اور نوبل انعام یافتہ خاتون ماریہ کورینا کی مقبولیت اور داخلی حمایت پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ موجودہ صورت حال میں ان کا ملکی قیادت سنبھالنا دشوار ہوگا۔
امریکی وزیر خارجہ نے وینزویلا کا ایک اور قصور ڈھونڈ نکالا ہے کہ وینز ویلا ہمارے مخالفین کا گڑھ بن چکا ہے اور امریکا چاہتا ہے کہ یہ ملک منشیات فروشوں کی جنت نہ بنا رہے۔
اللہ اللہ! آپ کو وینزویلا کی بہشت زار بننے کی کتنی شدید خواہش ہے اور اسی ’’انسانی خواہش‘‘ کے تحت آپ نے اس ’’پدی‘‘ جیسے ملک پر حملہ آور ہو کر اسے جنت کا نمونہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
امریکی غیر انسانی اور غیر قانونی طرز عمل پر سب سے زیادہ شدید رد عمل چین نے ظاہر کیا ہے۔ چین نے وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور ان کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ وینزویلا پر چڑھائی پر چین کو شدید تشویش ہے۔
امریکا وینزویلا کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش ترک کرکے اور عالمی تھانیدار بننے کے اپنے کردار کو بالائے طاق رکھ کر انسانیت کے مطابق اقدام کرنا سیکھے۔ ادھر ٹائم میگزین نے بھی اپنے ایک تجزیے میں کہا ہے کہ امریکا کے موجودہ اقدام سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا نے جس طرح گزشتہ پچیس تیس سال میں مشرق وسطیٰ میں غیر ضروری مداخلت اور اس میں ناکامی سے کوئی سبق نہیں سیکھا، ورنہ وہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے سلیقے سے واقف ضرور ہو جاتا۔
فرانس اور جرمنی نے اس صورت حال کو پرامن انداز میں نمٹانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ پاکستان نے امریکی اقدامات پر محتاط انداز میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ مجموعی طور پر پوری دنیا امریکا کی اس اشتعال انگیز بالادستی سے بے زار نظر آتی ہے۔