بھارت کے سیاسی کھیل نے بنگلہ دیشی کرکٹرز کی اسپانسر شپ ڈیلز برباد کردیں

بلیک میلر بھارت کھیلوں کو سیاست زدہ کرنے کی اپنی روش سے باز نہ آیا اور بنگلا دیش کی اسپورٹس انڈسٹری کو نقصان پہنچانے لگا۔

رپورٹس کے مطابق بھارت کیساتھ سیاسی تناؤ کے باعث بنگلہ دیش کے کئی سرِفہرست کرکٹرز کی اسپانسرشپ ڈیلز خطرے میں پڑ گئیں۔ کرکٹ سامان بنانے والی معروف بھارتی کمپنی ایس جی (SG) نے بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کے ساتھ اسپانسرشپ معاہدوں کی تجدید عارضی طور پر روک دی۔

ایس جی بنگلہ دیش کے موجودہ کپتان لٹن داس سمیت کئی بڑے بیٹرز کو اسپانسر کرتی ہے تاہم دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہونے کے بعد کمپنی نے نئے معاہدوں پر بات چیت روک دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ سیاسی کے باعث کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک اور بھارتی اسپورٹس اپیرل برانڈ سارین اسپورٹس (SS) نے بھی بنگلہ دیش میں اپنی مصنوعات تیار کروانے کا فیصلہ منسوخ کر دیا ہے۔ اس کمپنی نے مبینہ طور پر گزشتہ سال ہی بنگلہ دیش کے چار سے پانچ نمایاں کرکٹرز کے اسپانسرشپ معاہدے ختم کر دیے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ مستقبل میں حالات بہتر ہونے پر یہ فیصلے تبدیل ہو سکتے ہیں تاہم موجودہ صورتحال میں بنگلہ دیشی اسپورٹس انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ معاملہ صرف اسپانسرشپ معاہدوں تک محدود نہیں۔ سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی حالات کے باعث ایس جی نے گزشتہ چھ ماہ سے بنگلہ دیش میں کرکٹ سامان کی ترسیل مکمل طور پر روک رکھی ہے۔

اس کے علاوہ بنگلہ دیش کی فیکٹریوں میں تیار ہونے والا اسپورٹس اپیرل، جو پہلے بھارت کی مختلف کمپنیوں کو فراہم کیا جاتا تھا، وہ سپلائی چین بھی تقریباً ایک سال سے متاثر ہے، جس سے مقامی صنعت اور مزدوروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر بھارت کھیل کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا اور دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری نہ آئی تو بنگلہ دیش کی اسپورٹس انڈسٹری کو طویل المدتی مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Similar Posts