کسی سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانا یا نکالنا حکومت کی صوابدید ہے، آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ حکومت کی صوابدید ہے کہ کسی سیکٹرکو ٹیکس میں شامل کرے یا نکال دے۔

آئینی عدالت نے بلوچستان اسمبلی کے صوبائی محکمے کو معدنیات پر ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا اختیار دینے کی تائید کر دی۔

گزشتہ روز  سپر ٹیکس کیس کی سماعت کے دوران  درخواستگزار وکیل  نے کہا کمرہ عدالت میں گھڑی نہیں جس کے باعث وقت کا اندازہ نہیں ہو تا، ویڈیو لنک کا انتظام بھی کیا جائے۔

جسٹس امین الدین خان نے کہا ابھی کچھ چیزیں مکمل نہیں ،جلد مکمل ہو جائیں گی۔ایکسپورٹر کمپنی کے وکیل راشد انور نے کہا اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ 15 فیصد سے کم اور55 فیصد سے زیادہ ٹیکس وصول نہیں کیا جاسکتا۔ 

اس وقت 55 فیصد سے زائد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے ، افسوس زیادہ ٹیکس کی وجہ سے لوگ ملک چھوڑ رہے، تاجر دبئی جیسے شہروں میں کاروبار شفٹ کررہا ہے جہاں شرح ٹیکس  کم ہے۔

وکیل اعجاز احمد نے کہا سگریٹ کی130 روپے کی ڈبی پر98 روپے ٹیکس وصول ہو رہا ہے ،48 روپے کے پیکٹ پر40 روپے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔

ایف بی آرکی وکیل عاصمہ حامد نے کہا جو اعدادو شمار بتائے جا رہے، ریکارڈ پر نہیں ،حکومت نے تمام سیکٹرز پر ٹیکس نہیں لگایا۔

جسٹس امین الدین نے کہا حکومت کی صوابدید ہے  کسی سیکٹرکو ٹیکس میں شامل کرے یا نکال دے۔وکیل ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکس کی کلاسیفیکیشن کاروبار پر نہیں انکم پر لگنی چاہیے۔

سماعت آج دوبارہ ہوگی۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں  ڈویژن بینچ نے اس اعتراض پر فیصلہ دیا کہ ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ کے سیکشن 3 میں ترمیم کا بلوچستان اسمبلی کو اختیار حاصل ہے کہ نہیں۔

درخواست گزار اٹک سیمنٹ نے بلوچستان کے ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کے  اختیار کے خلاف درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ایکسائز ڈیوٹی کا نفاذ وفاقی حکومت کا دائرہ اختیار ہے، بلوچستان اسمبلی کے پاس1967 کے ایکٹ میں ترمیم  کا اختیار نہیں، خصوصاً جب ترمیم سے ایکسائز ڈیوٹی کی نوعیت تبدیل ہو جائے۔

Similar Posts