مطابق بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے مطابق آئی سی سی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس ہوئی جہاں بی سی بی نے اپنے فیصلے کو دہراتے ہوئے آئی سی سی سے درخواست کی کہ بنگلہ دیش کے تمام میچز بھارت سے دوسرے ملک منتقل کردیے جائیں۔
بی سی بی نے بیان میں کہا کہ بورڈ نے سیکیورٹی خدشات کے باعث ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے پر اپنی پوزیشن کا اعادہ کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ آئی سی سی نے ٹورنامنٹ کے پہلے سے اعلان کردہ شیڈول اجاگر کیا اور بی سی بی سے درخواست کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے لیکن بورڈ کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
بی سی بی نے بتایا کہ آئی سی سی کے ساتھ تبادلہ خیال جاری رہے گا تاکہ ممکنہ حل نکالا جائے لیکن بورڈ اپنے کھلاڑیوں، عہدیداروں اور عملے کی حفاظت کے لیے بدستور پرعزم ہے۔
دوسری جانب آئی سی سی کی جانب سے اس ملاقات کے حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو بے خل کرنے پر 4 جنوری کو اعلان کیا تھا کہ ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے اپنی ٹیم بھارت نہیں بھیجیں گے اور آئی سی سی کو درخواست کی تھی بنگلہ دیش کے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کردیے جائیں۔
بھارت میں سری لنکا میں مشترکہ طور پر شیڈول ٹی20 ورلڈ کپ کا باقاعدہ آغاز 7 فروری 2026 کو ہوگا اور بنگلہ دیش کے تمام گروپ میچز بھارت میں ہی شیڈول ہیں۔
بنگلہ دیش کی ٹی20 ٹیم لٹن داس کی قیادت میں آئی سی سی کی درجہ بندی میں نویں نمبر پر ہے اور اب تک ہونے والے ٹی20 کے تمام ورلڈ کپ کھل چکی ہے لیکن تاحال سیمی فائنل تک رسائی نہیں کرپائی ہے۔
واضح رہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں کشیدگی اگست 2024 میں اس وقت شروع ہوئی جب طلبہ تحریک کے ملک گیر احتجاج کے نتیجے میں اس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت ختم ہوئی، جو بھارت کی اتحادی تھیی۔
بنگلہ دیش کی طلبہ تحریک کے سرکردہ رہنماؤں میں شامل شریف عثمان ہادی کے حال ہی میں ہونے والے قتل کے بعد پولیس نے قاتلوں کے حوالے انکشاف کیا تھا کہ قتل کے بعد سرحد پار کرکے بھارت چلے گئے ہیں اور اس واقعے پر بھی بنگلہ دیش میں بھارت کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے۔
بنگلہ دیش کے نوبل انعام یافتہ حکمران محمد یونس نے کہا تھا کہ ملک کے اندر کشیدگی کے لیے بھارت ہوا دے رہا ہے۔
دوسری جانب بھارت نے بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے مذمت کی تھی اور بھارتی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے بیان بھی جاری کیا تھا۔