ماہرین موسمیات نے انکشاف کیا کہ موسم سرما میں یہاں برف باری وبارش لاتا قدرتی ہوائی نظام’’مغربی خلل‘‘ ( disturbance Western ) کی وجہ سے کمزور پڑ چکا۔
یہ نظام بحیرہ روم، بحیرہ اسود اور بحیرہ قزوین کی نمی لے کر چلتا اور راستے میں بحیرہ عرب سے بھی آبی بخارات لیتا ہے۔
جب پاک وہند پہنچ کر دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں، ہمالیہ، ہندوکش، قراقرم وغیرہ سے ٹکرائے تو اس کی ہوا بلند ہو جاتی۔
تبھی اس کی نمی جم کر برف باری کی صورت گرتی ہے۔نمی زیادہ ہو تو بارش بھی ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق گلوبل وارمنگ سے’’ ہوائی نظام میں مغربی خلل‘‘شمال کی طرف جا رہا لہٰذا اب اس میں بحیرہ عرب کی نمی کم ہو چکی۔
اسی کمی سے پاک وہند کے پہاڑوں پر برف باری گھٹ رہی جو خطرے کی گھنٹی ہے۔ پہلے ہی ان پہاڑوں کے گلیشئربڑھتی گرمی سے پگھل رہے۔
اگر برف باری بھی کم ہو گئی تو مستقبل میں اربوں انسانوں کیلئے پانی کا بحران جنم لے سکتا ہے۔