ایران امریکا تعلقات کے 75 برس کی مختصر تاریخ

ایران اور امریکا کے تعلقات کی کہانی دہائیوں پر پھیلی ہوئی ہے، جس میں کبھی قربت نظر آئی اور کبھی شدید دشمنی۔ یہ تعلقات 1951 سے لے کر سال 2026 تک مختلف سیاسی، معاشی اور عسکری موڑ سے گزرتے رہے۔ اس پوری مدت میں خطے اور دنیا کی سیاست پر گہرے اثرات بھی مرتب ہوتے رہے۔

کہانی کا آغاز 16 مارچ 1951 سے ہوتا ہے، جب محمد مصدق ایران کے وزیر اعظم بنے۔ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی ایرانی تیل کی صنعت کو قومیانے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے کو امریکا اور برطانیہ نے اپنے مفادات کے خلاف سمجھا اور اسے قبول نہ کیا۔

اس کشیدگی کا نتیجہ 19 اگست 1953 کو سامنے آیا، جب امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور برطانوی ایم آئی سکس نے ’آپریشن ایجیکس‘ کے تحت ایران میں مداخلت کی۔ اس دوران فوجی بغاوت کے ذریعے محمد مصدق کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور شاہ ایران محمد رضا پہلوی کو دوبارہ مکمل اختیارات مل گئے۔

اس کے بعد 29 اگست 1954 کو امریکی اور برطانوی دباؤ کے تحت شاہ ایران نے کنسورشیم معاہدے پر دستخط کیے، جس کے نتیجے میں امریکی، برطانوی اور فرانسیسی تیل کمپنیوں کو ایران کے قومی تیل کے شعبے میں 25 سال کے لیے 40 فیصد ملکیت دی گئی۔ 5 مارچ 1957 کو شاہ ایران اور امریکی صدر آئزن ہاؤر کے درمیان سول نیوکلیئر تعاون کے معاہدے ’ایٹمز فار پیس‘ پر دستخط ہوئے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئی جہت سامنے آئی۔

14 ستمبر 1960 کو ایران نے عراق، کویت، سعودی عرب اور وینیزویلا کے ساتھ مل کر تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی بنیاد رکھی۔

1960 اور 70 کی دہائی میں امریکا نے ایران کو جدید ہتھیار فروخت کیے، تاہم اسی دوران مغربی طرز زندگی اور امریکی اثر و رسوخ کے خلاف ایرانی عوام میں بے چینی بڑھتی گئی۔ یہ بے چینی بالآخر 1979 میں انقلاب کی صورت میں سامنے آئی۔ شاہ ایران کو ملک چھوڑنا پڑا اور یکم فروری 1979 کو آیت اللہ خمینی جلاوطنی ختم کر کے ایران واپس آگئے۔

گیارہ فروری کو نئی حکومت نے اقتدار سنبھالا اور ایران ایک اسلامی جمہوریہ بن گیا، جبکہ امریکا کو سرکاری طور پر شیطانِ بزرگ قرار دیا گیا۔

چار نومبر 1979 کو ایرانی طلبہ اور عوام نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے 52 امریکی شہریوں کو یرغمال بنا لیا۔ اس واقعے کے بعد 7 اپریل 1980 کو امریکا نے ایران سے سفارتی تعلقات ختم کر دیے، ایرانی اثاثے منجمد کیے اور پابندیاں عائد کر دیں۔

بالآخر 20 جنوری 1981 کو الجزائر معاہدے کے تحت 440 دن بعد امریکی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا۔

18 اپریل 1988 کو امریکا نے ایران کے خلاف آپریشن ’پریئنگ مینٹس‘ شروع کیا، جس میں ایرانی تیل کے پلیٹ فارمز کو تباہ کیا گیا اور ایک فریگیٹ ڈبو دی گئی۔

اسی سال تین جولائی کو امریکی جنگی بحری جہاز نے خلیج فارس میں ایرانی مسافر طیارے کو غلطی سے جنگی طیارہ سمجھ کر مار گرایا، جس میں 290 شہری جاں بحق ہوئے۔ اس واقعے پر امریکا کی جانب سے کوئی باضابطہ معافی نہیں مانگی گئی۔

پانچ اگست 1996 کو امریکی صدر بل کلنٹن نے ایران سینکشن ایکٹ کے تحت ایران کے تیل اور گیس کے شعبے پر پابندیاں عائد کر دیں۔ 29 جنوری 2002 میں امریکی صدر جارج بش نے ایران کو بدی کا محور قرار دیا، جس سے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔

اوباما دور میں 24 نومبر 2013 کو ایران، امریکا اور پانچ عالمی طاقتوں کے درمیان عبوری جوہری معاہدہ ہوا، جس کے تحت ایران نے یورینیم کی افزودگی محدود کی۔ یہ عمل 14 جولائی 2015 کو ’جوائنٹ کمپریہینسو پلان آف ایکشن‘ کے نام سے مکمل معاہدے میں تبدیل ہوا۔

تاہم آٹھ مئی 2028 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے نکلنے کا اعلان کر دیا اور ایران پر سخت پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی گئیں۔

15 اپریل 2019 کو امریکا نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا۔ تین جنوری 2020 کو بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی شہید ہو گئے، جس کے جواب میں آٹھ جنوری کو ایران نے عراق میں عین الاسد سمیت امریکی اڈوں پر میزائل حملے کیے، تاہم کسی امریکی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی۔

2021 اور 2022 میں جوہری معاہدہ بحال کرنے کی کوششیں کی گئیں، مگر کوئی حتمی نتیجہ نہ نکل سکا۔ اگست 2023 میں امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا، جسے محدود سفارتی پیش رفت قرار دیا گیا۔

سال 2025 میں 12 اپریل سے 13 جون تک عمان اور روم میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات ہوئے، لیکن معاہدہ نہ ہو سکا۔ 13 جون 2025 کو اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کی۔ 22 جون کو امریکا نے آپریشن ’مڈ نائٹ ہیمر‘ کے تحت ایران کی تین ایٹمی تنصیبات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایران نے امریکی اڈوں پر حملے کیے۔

دونوں ممالک کے درمیان یہ سلسلہ 14 جنوری 2026 تک پہنچ چکا ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یوں ایران اور امریکا کے تعلقات کی یہ طویل داستان آج بھی کشیدگی، مذاکرات اور طاقت کے توازن کے درمیان آگے بڑھ رہی ہے۔

Similar Posts