مہمان آئیں تو سب سے پہلے کچن کی صفائی پر نظر پڑتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ روزانہ کھانا بننے کے باعث یہی جگہ سب سے زیادہ جلدی گندی بھی ہوجاتی ہے۔
تیل کے چھینٹے، دھوئیں کے نشانات، چولہے کی کالک، جلے ہوئے پتیلے اور اوون کی میل، یہ سب کچن کو بدنما بنا دیتے ہیں۔ اسی لیے آج کی خواتین مہنگے کلینرز اور مختلف ٹوٹکوں کا سہارا لیتی ہیں، مگر ماضی میں جب یہ سب سہولتیں موجود نہیں تھیں، تب صفائی کا ایک نہایت سادہ مگر مؤثر حل استعمال کیا جاتا تھا، اور وہ تھا کوئلہ۔
پرانے وقتوں میں نہ ڈش واشنگ بار ہوتے تھے اور نہ جدید کیمیکل کلینرز۔ گھروں میں کھانا زیادہ تر کوئلے پر پکایا جاتا تھا، جس کی وجہ سے دیگیں، پتیلے اور برتن جلدی کالے پڑ جاتے تھے۔ ایسے میں انہی کالے برتنوں کو صاف کرنے کے لیے کوئلہ ہی استعمال کیا جاتا تھا۔
حیرت انگیز طور پر اس سادہ طریقے سے برتن نہ صرف صاف ہوتے تھے بلکہ ان پر جلے ہوئے داغ بھی باقی نہیں رہتے تھے، یہی وجہ ہے کہ اس دور میں گندے یا جلے برتن شاذونادر ہی نظر آتے تھے۔
ماہرین کے مطابق کوئلے میں موجود قدرتی کاربن اور ہائیڈروکاربن ایسے عناصر ہیں جو زنگ، میل اور سخت جمی ہوئی گندگی کو تیزی سے صاف کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہی خاصیت کوئلے کو ایک مؤثر قدرتی کلینر بناتی ہے، جو بغیر کسی کیمیکل کے صفائی کا کام انجام دیتا ہے۔
کوئلے سے صفائی کیسے کی جائے؟
برتن صاف کرنے کے لیے کوئلے کو توڑ کر باریک پیس لیا جاتا ہے۔ اس پاؤڈر کو کسی کپڑے یا اسکرب کے ساتھ لگا کر جلے ہوئے یا میلے برتنوں پر رگڑا جائے تو چند ہی لمحوں میں پتیلے اپنی اصل چمک واپس حاصل کر لیتے ہیں۔ یہی طریقہ بڑے دیگچوں اور پتیلوں کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوتا ہے۔
اوون صاف کرنے کا طریقہ
اوون کی صفائی میں بھی کوئلہ مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ کوئلے کا باریک پاؤڈر اوون کی جالیوں اور شیشے پر لگانے سے میل آسانی سے اتر جاتی ہے، اور نہ تو سطح پر خراش پڑتی ہے اور نہ ہی شیشہ خراب ہوتا ہے۔ کچھ ہی دیر میں اوون دوبارہ صاف اور چمکدار دکھائی دینے لگتا ہے۔
کچن کی دیواریں پر جمی چکنائی صاف کریں
کچن کی دیواروں پر جمی چکنائی اور میل صاف کرنے کے لیے ایک اور سادہ ترکیب استعمال کی جاتی تھی۔ نیم گرم پانی میں دو چمچ سرکہ اور تھوڑا سا کوئلے کا پاؤڈر ملا کر کپڑا بھگویا جاتا اور دیواروں کو صاف کیا جاتا۔ اس آمیزے سے تیل کے ضدی نشان بھی آسانی سے ختم ہو جاتے ہیں۔
اسی محلول سے کیبنٹس کی صفائی بھی کی جا سکتی ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف میل کچیل دور کرتا ہے بلکہ کیبنٹس کو ایسی چمک دیتا ہے جیسے وہ بالکل نئے ہوں۔
یوں ایک زمانے میں صرف ایک کوئلہ خواتین کے کچن کی صفائی کا سب سے بڑا سہارا ہوا کرتا تھا۔ آج جدید مصنوعات کے باوجود یہ پرانا نسخہ اب بھی کارآمد ہے، جو کم خرچ، قدرتی اور مؤثر صفائی کا بہترین حل پیش کرتا ہے۔