ریکارڈ ترسیلات زر کی وجہ سے 2026 کی پہلی ششماہی میں مجموعی ترسیلات 19.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ ایک ایسے ملک کے لیے جس کی برآمدات سالہا سال سے سست رفتاری کا شکار ہو اور ایک ایسے وقت میں جب بیرونی قرضوں کی سہولتیں دشوار اور غیر یقینی ہوں زرمبادلہ کا یہ بڑھتا ہوا رجحان مالی مسائل حل کرنے کا اہم ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔
2024-25 میں ترسیلات زر کی صورت میں 38 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ حاصل ہوا۔ اس مرتبہ اگر یہی مثبت رجحان برقرار رہا جس کی توقع کی جا رہی ہے، وجہ بھی ہے کہ 2025 میں ساڑھے سات لاکھ سے زائد افراد بیرون ملک جا چکے ہیں۔ مارچ 2024 میں 4 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ حاصل ہوا جو کہ کسی بھی ماہ میں سب سے زیادہ تھیں۔ موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں گزشتہ مالی سال کے اسی مدت کے مقابلے میں 11 فی صد اضافہ نوٹ کیا گیا۔ ترسیلات زر صرف کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر دباؤ کم کرنے کا ذریعہ ہے بلکہ ملکی معاشی استحکام میں بھی کلیدی کردارکا باعث بھی ہے۔
ترسیلات زر تو بڑھ رہی ہیں لیکن ان 6 ماہ میں برآمدات میں 8.70 فی صد کی کمی ہوئی ہے۔ دنیا میں ترسیلات زر میں اضافے کے ساتھ ہر ملک اپنی برآمدات کو بھی بڑھا رہا ہے۔ اعداد و شمار سے معلوم دیتا ہے کہ 2024 میں 685 ارب ڈالر تک عالمی ترسیلات زر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور امداد وغیرہ سے بھی زیادہ ہیں۔ پاکستان کا حصہ اس عالمی رجحان میں گزشتہ کئی برسوں سے نمایاں چلا آ رہا ہے۔
پاکستان کی معیشت ترسیلات زرکی روشنی میں ایک نیا رخ لیتی نظر آ رہی ہے جو استحکام کے امکانات کو ظاہرکرتی ہے لیکن اس کا کارآمد اور پائیدار اثر تب ہی ممکن ہے جب برآمدات میں بھی اضافہ ہو۔ مقامی صنعت کو بھی استحکام حاصل ہو اور بیرونی سرمایہ کاری کا بہاؤ بھی تیز ہو، تب کہیں جا کر حقیقی معاشی ترقی کا نمایاں عدد حاصل ہوگا۔ ترسیلات زر کا بڑا حصہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، امریکا سے حاصل ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے۔ جن میں سالانہ 7 سے 8 لاکھ افراد فی سال کا اضافہ ہو رہا ہے۔
ان افراد میں اکثریت محنت کش، ڈرائیور، مستری، ٹیکنیشن، نرسز اور سیلز ورکرز وغیرہ ہیں۔ یہاں پر ہم نے اپنا ایک الگ سے مقام چن لیا ہے، یعنی معیشت کی کمزوری کا علاج اور معیشت کا انحصار محنت کی ہجرت پر ہے۔پاکستان میں برآمدات میں کمی ایک گہرا مسئلہ بن کر رہ گیا ہے جو اقتصادی ترقی کو متوازن کرنے میں ایک رکاوٹ ہے، لہٰذا برآمدات بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ مقامی صنعتیں بند ہونے کے بجائے کھلتی رہیں، صرف ماہ دسمبر میں ترسیلات زر 3.6 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جب کہ دسمبر 2024 میں 3.1 ارب ڈالر تھا۔
اس طرح نومبر کے مقابلے میں دسمبر میں 13 فی صد اضافہ ہوا۔ اس رجحان کو دیکھتے ہوئے اور بیرون ملک جانے والے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھا جائے تو رواں مالی سال میں ترسیلات زر کے 42 ارب ڈالر سے بھی زائد ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں دیگر ملکوں نے ترسیلات زرکو سرمایہ کاری میں ڈھالنے کا فن سیکھا ہوا ہے۔ پاکستان میں رقم کا تقریباً سارا ہی حصہ نمود و نمائش، درآمدی مصنوعات کے استعمال اور مہنگائی کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جیسے ہی رقوم کی آمد شروع ہوتی ہے یا اس میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی رقوم بھیجنے والے خاندانوں کے طرز زندگی میں تبدیلی آنے لگتی ہے جو بچت کم اور فضول خرچی کو زیادہ نمایاں کرتی ہے۔ اس طرح بہت کم بچت حاصل ہونے کے باعث یہ رقوم چھوٹے کاروبار کے لیے استعمال نہیں ہو پاتی۔ چونکہ ترسیلات زر کا تعلق بیرون ملک ملازمت پیشہ افراد سے ہوتا ہے، ان میں زیادہ تر انجینئرز، ڈاکٹرز اور مختلف پیشوں کے ماہرین ہوتے ہیں، لہٰذا کہا جاتا ہے کہ ملک میں تیزی سے برین ڈرین ہو رہا ہے۔
اس طرح ڈاکٹرز کی کمی کو اب محسوس کیا جا رہا ہے، لیکن اس سلسلے میں حکومت کے پاس بھی کوئی واضح پالیسی موجود نہیں ہے کہ وہ کس طرح ان ڈاکٹرز اور انجینئرز کو ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق ملک میں روزگار فراہم کریں۔ گزشتہ برس ہی تقریباً ساڑھے سات لاکھ افراد جوکہ بیرون مل گئے ہیں، ان میں بہت سے افراد مجبوراً غیر قانونی طور پر گئے۔
یہ مجبور افراد گھر سے روانہ ہوتے ہیں تو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جاتے ہیں اور جا کر جب تارکین وطن ملک کو ڈالر کی صورت میں رقوم بھیجتے ہیں تو یہ ڈالر ایسی اجرت ہوتی ہے جو وہ سخت دھوپ میں، سرد راتوں میں اپنی جان کو تکلیف میں ڈال کر اور کبھی جان کا رسک لے کر اپنی ڈیوٹی ادا کرکے کماتے ہیں اور جب زرمبادلہ کے یہ ذخائر حکومت سنبھالتی ہے تو درآمدی بل کی سانس ہلکی ہوتی ہے۔ گھریلو کھیت کو سہارا ملتا ہے، کارخانوں کی پیداوار کو آسرا ملتا ہے اور ملکی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایسی پالیسی بنائے، ایسی معاشی صنعتی منصوبہ بندی کرے تاکہ یہ ڈالرز سرمایہ کاری میں ڈھلنا شروع ہو جائیں۔ پردیس کی کمائی کارخانوں، صنعتوں اور ٹیکنالوجیزکی شکل میں ڈھل کر معیشت کو سہارا دیں۔ اس طرح سے ہم نے اگر کوئی ایسا راستہ چن لیا جوکہ زرمبادلہ کی کمائی کو محفوظ سرمایہ کاری میں بدل کر ایس ایم ایز اور چھوٹے بڑے کارخانوں میں ڈھال دیں تاکہ ملک ترقی کی شاہراہ پرگامزن ہو سکے۔