قتل کی تحقیقات کے لیے قائم خصوصی ٹیم نے گرفتار ملزم مسرور حسین کی نشاندہی پر آلہ قتل (بغدا) برآمد کر لیا، جسے واردات کے بعد قریب ہی جھاڑیوں میں چھپا دیا گیا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق برآمد ہونے والا تیز دھار آلہ اسی نوعیت کا ہے جس کے وار سے مقتولین کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔
تاہم تفتیش میں نیا موڑ اس وقت آیا جب گرفتار ملزم نے متضاد بیانات دینا شروع کر دیے جس کے باعث یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا اس ہولناک قتل میں وہ اکیلا ملوث تھا یا اس کے ساتھ کوئی اور بھی شریکِ جرم تھا۔
واضح رہے کہ رواں ماہ 2 جنوری کو مائی کلاچی پھاٹک کے قریب مین ہول سے ایک خاتون، دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جن پر تیز دھار آلے سے تشدد کے واضح نشانات تھے۔
ابتدائی طور پر لاشوں کی شناخت ممکن نہ ہو سکی تاہم اگلے روز مقتولین کی شناخت 38 سالہ انیلہ، 13 سالہ بیٹی کشور زہرہ، 10 سالہ کونین علی اور 15 سالہ حسین علی کے طور پر ہوئی، جو کھارادر کے رہائشی تھے۔
پولیس نے 4 جنوری کو اس لرزہ خیز قتل کے مرکزی ملزم مسرور حسین کو گرفتار کیا تھا، جس نے پولیس کے ویڈیو بیان میں واردات کا اعتراف بھی کیا۔
اب آلہ قتل کی برآمدگی نے کیس کو مضبوط کر دیا ہے، تاہم ملزم کے بدلتے بیانات نے تفتیشی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور جلد مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔