سرکاری ذرائع کے مطابق یہ درخواست اس عرصے میں کی گئی جب یو اے ای کے صدر ذاتی دورے پر پاکستان آئے تھے۔ یو اے ای کے صدر سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ یو اے ای نے قرض رول اوور کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عالمی بینک نے بھی جمعرات کو پاکستان کو آگاہ کیا کہ ملک میں سرمایہ کاری کی سطح 20 ارب ڈالر کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) کے تحت طے شدہ اہداف سے کم ہے۔
اسٹیٹ بینک اور وفاقی حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے یو اے ای سے مجموعی طور پر 2.45 ارب ڈالر کے واجب الادا قرض کی توسیع کی درخواست کی ہے۔
ایک ارب ڈالر جمعے کو میچور ہو گیا جبکہ مزید ایک ارب ڈالر آئندہ ہفتے میچور ہو رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ادائیگی کا کوئی امکان نہیں تھا کیونکہ یو اے ای کے صدر پہلے ہی توسیع پر رضامند ہو چکے ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ قرض ایک سال کے لیے رول اوور ہوا ہے یا دو سال کے لیے۔
مرکزی بینک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دو سالہ توسیع کے ساتھ شرحِ سود میں نصف سے زائد کمی کی بھی درخواست کی ہے۔
خبر فائل کیے جانے تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا تھا۔بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ دو ارب ڈالر کی ادائیگی واجب الادا تھی جسے یو اے ای نے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
یو اے ای نے 2018 میں پاکستان کو ایک سال کے لیے دو ارب ڈالر کا قرض دیا تھا، جو 16 ارب ڈالر کے سرکاری زرمبادلہ ذخائر کا حصہ ہے۔
نائب وزیراعظم اسحق ڈار نے بدھ کو کہا کہ پاکستان پر دوست ممالک کا مجموعی قرض 12 ارب ڈالر ہے، جس میں پانچ ارب ڈالر سعودی عرب، تین ارب ڈالر یو اے ای اور چار ارب ڈالر چین کے ذمے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے 1996-97میں یو اے ای سے 450 ملین ڈالر کا قرض لیا تھا جو اب تک ادا نہیں کیا گیا اور اس پر بھی 6.5 فیصد شرحِ سود ادا کی جا رہی ہے۔
دو سالہ توسیع اس لیے طلب کی گئی ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے دوران پاکستان یہ قرض واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔
فنڈ پروگرام آئندہ سال ستمبر میں ختم ہو رہا ہے۔مرکزی بینک کے ترجمان سے بھی رابطہ کیا گیا کہ آیا یو اے ای نے دو سال کے لیے رول اوور اور نئی شرحِ سود پر اتفاق کیا ہے یا نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ سال کی 32 ارب ڈالر کی برآمدات کو چار سال میں 63 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، تاہم براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔
جمعرات کو عالمی بینک کے وفد نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی اور بتایا کہ سرمایہ کاری کی سطح کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے اہداف سے کم ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے سی پی ایف پر بریفنگ دی۔عالمی بینک نے نتائج پر مبنی حکمتِ عملی، واضح پالیسی اہداف اور تکنیکی معاونت کی بھی تجویز دی۔
پاکستان نے گزشتہ ہفتے توانائی کے شعبے کے 36 ارب ڈالر کے قرض کی ری فنانسنگ کے لیے بھی عالمی بینک سے مدد مانگی تھی۔ عالمی بینک نے بتایا کہ وہ مکمل فنڈنگ تو نہیں کر سکتا، تاہم جزوی ضمانتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔