دہشتگردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا  کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گرد ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں، انہیں پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحرِہند میں ڈبو دیں گے۔

قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان سے  ملاقات کے دوران  اظہار خیال کرتے ہوئے  وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک سے غربت، بے روزگاری کے خاتمے، قرضوں سے نجات اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھا لیاہے۔ خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، مگر ہم دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں لاکھوں قربانیوں کے بعد وجود میں آیا۔ تحریکِ پاکستان میں تمام مکاتبِ فکر اور اقلیتی برادری نے کردار ادا کیا۔پاکستان میں تمام مذاہب کو عبادت اور تہوار منانے کی مکمل آزادی حاصل ہے ۔ یہاں ہر شہری کو اپنی محنت و صلاحیت کے بل بوتے پر آگے بڑھنے کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ قدرتی وسائل عطا کیے ہیں، اگر ان سے درست استفادہ کیا جائے تو غربت، بے روزگاری اور قرضوں سمیت ہمارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مئی 2025 میں معرکۂ حق میں افواجِ پاکستان نے دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔ یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کی نصرت، افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور 24 کروڑ عوام کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں قوم نے عظیم فتح حاصل کی۔

وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ افواجِ پاکستان، پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بے مثال قربانیاں دیں۔ جس طرح 2018 میں دہشت گردی کو شکست دی گئی تھی، اسی عزم کے ساتھ اس بار بھی اس کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کنوینر مولانا طاہر اشرفی نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعظم کے اعتماد پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔  خیبرپختونخوا میں علما و مشائخ کی 2 روزہ کانفرنس منعقد کی جائے گی، کمیٹی کے ارکان ملک بھر میں دورے کریں گے، سلامتی اداروں کے ساتھ وقت گزاریں گے اور بیانیہ کی جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کریں گے۔

شرکا کا کہنا تھا کہ علما کرام نظریاتی محاذ پر کردار ادا کریں گے۔ انتہاپسندی اور فکری دہشت گردی کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا اور پیغامِ پاکستان کو تعلیمی و سماجی سطح پر عام کیا جائے گا۔

Similar Posts